سیلاب: صورتحال تشویشناک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے بعض مغربی اور جنوبی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال اب بھی تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے لاکطوں لوگ محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اہلکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور لوگوں کو غذائی اشیاء اور پینے کا پانی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں شدید بارش کے سبب جنوبی ریاست آندھرا پردیش، مہارا راشٹر،گجرات اور مدھیہ پردیش میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ فوج اور فضائیہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی میں مصروف ہے اور بہت سے پھنسے ہوئے لوگوں کو کشتی کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آندھرا پردیش میں دریائے گوداواری میں پانی کچھ کم ہوا ہے جس سے اب قدرے سکون ہے۔ لیکن تقریباً تین سو گاؤں اب بھی پانی کی زد میں ہیں۔ اس ریاست میں سیلاب سے اب تک سو سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں لیکن ہلاکت کا کوئی تازہ واقعہ نہیں ہوا ہے۔ گجرات کے شہر سورت میں حالات اب بھی خراب ہیں۔ پانی بھرنے سے بجلی پانی کی شدید قلت ہے اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں تیز کردی ہیں اور ممبئی اور گجرات کے درمیان ریل سروس کو بھی دوبارہ بحال کردیا گیا ہے۔ آس پڑوس کے لوگ بھی متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وزیر دفاع پرنب مکھرجی کے ساتھ گجرات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور مرکزی حکومت نے ریاست کے لیئے ایک امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گجرات اور مہاراشٹر میں بارش کی کمی کے آثار ہیں اور لوگوں کو جلدی ہی سیلاب سے نجات مل سکتی ہے۔ | اسی بارے میں گجرات:سیلاب کی وجہ سےکارخانے بند09 August, 2006 | انڈیا ہندوستان میں جان لیوا بارشیں08 August, 2006 | انڈیا مہاراشٹر میں بارش کا قہر جاری 06 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||