پولیس، کسانوں کی جھڑپیں، کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے گنگا نگر میں پولیس اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں کے علاقے میں کرفیو نافد کر دیا گیا ہے۔ سری گنگا نگر کے دو قصبوں میں پیر کے روز کسانوں اور پولیس کے درمیان تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ جس کے بعد حالات کو قابو کرنے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ سری گنگا نگر کے کسان حکومت سے آبپاشی کے لیے پانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ضلع کے ایک سینئر اہلکار کنجیلال مینا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گھدسانہ اور راولا علاقوں میں کرفیو نافد کیا گیا ہے۔ ان کا کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ ہیں لیکن قابو میں ہے۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق 60 کسانوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے اشتعال انگیزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کسان علاقے کے ایک سرکاری دفتر کا محاصرہ کر نا چاہتے تھے ۔ اور پولیس ان کو ایسا کرنے کے سے روک رہی تھی۔ جس کے سبب کسانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کے مطابق کسانوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس چھوڑی اور ربر کی گولیاں بھی چلائیں۔ اس واقع میں ایک درجن سے زیادہ کسان اور کم از کم چھ پولیس کے اہلکار زخمی ہوگۓ ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے اندر گھدسانہ علاقے میں دوسری بار کرفیو نافد کیا گیا ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں بھی علاقے میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ تب کسانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے گولی چلائی تھی جس کے سبب پانچ کسانوں کی موت ہوگئی تھی۔ اس واقعےکے بعد حکومت نے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں آبپاشی کے لیے کافی پانی مہیا کرائے گی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ | اسی بارے میں پیکج خودکشیاں نہ روک سکا21 May, 2004 | انڈیا سینکڑوں پنجابی کسان گرفتار03 November, 2004 | انڈیا بھارتی پنجاب کے کسان، تبدیلی کے خواہاں10 May, 2004 | انڈیا دل کے لیے دل سے کوششیں20 December, 2005 | انڈیا مہاراشٹر: کسانوں کے لیئے نیا پیکج01 July, 2006 | انڈیا کیرالا کے کسانوں کی حالت زار01 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||