الطاف حسین بی بی سی سرینگر |  |
 | | | کشمیر میں چنار کے درختوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے |
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں کشمیر یونیورسیٹی کے احاطے میں ایک گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کے خلاف یونیورسٹی کے تقریبا ایک سو طلبہ و طالبات نے دو دنوں کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کی وجہ سے یونیور سیٹی کے احاطے میں واقع چینار کے درختوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ گیسٹ ہاؤس کو مغل بادشاہوں کے تعمیر کردہ نسیم باغ میں بنایا جائے گا۔ مغل بادشاہوں نے نسیم باغ میں ایک ہزار سے زائد چینار کے پیڑ لگائے تھے۔ ان میں درجنوں ابھی بھی موجود ہیں۔ ایک طالب علم فاروق احمد کا کہنا ہے: ’یونیورسٹی کی انتظامیہ ایک اہم ورثہ کو ختم کرنا چاہتی ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ ہم کسی بھی حال میں گیسٹ ہاؤس کو نہیں بننے دیں گے، چاہے ہمیں یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔‘  | یونیورسٹی آثار قدیمہ نہیں  ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ چنار ایک نایاب ورثہ ہے لیکن یونیورسٹی کوئی آثار قدیمہ نہیں ہے۔ ہمیں گیسٹ ہاؤس کی سخت ضرورت ہے اور ہمیں گیسٹ ہاؤس تعمیر کرنے کی کوئی اور معقول جگہ دستیاب نہیں ہے۔  وائس چانسلر عبدالواحد |
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالواحد کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ چنار ایک نایاب ورثہ ہے لیکن یونیورسٹی کوئی آثار قدیمہ نہیں ہے۔ ہمیں گیسٹ ہاؤس کی سخت ضرورت ہے اور ہمیں گیسٹ ہاؤس تعمیر کرنے کی کوئی اور معقول جگہ دستیاب نہیں ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ بلڈنگ بنانے والے انجینیئرز نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ گیسٹ ہاؤس اور چینار کے درختوں کے درمیان کم از کم پچیس فٹ کا فاصلہ رکھے گیں۔ ریاست کے چنار ڈیولپمنٹ افسر میراج الدین کا کہنا ہے کہ چنار کے درخت تبھی بچائے جا سکتے جب گیسٹ ہاؤس اور درختوں کے درمیان پچاس میٹر کی دوری رکھی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چنار کے درختوں کی جڑیں تیزی سے پھیلتی ہیں اور سمینٹ کی وجہ سے انکی جڑیں مرجاتی ہیں اور دھیرے دھیرے درخت ختم ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ برس ایک جائزے سے پتہ چلا تھا کہ پچھلے تیس برسوں کے درمیان کشمیر میں تیس ہزار سے زائد چنار کے درخت ختم ہوچکے ہیں۔ سن 1976 میں کشمیر میں تقریبا چوبیس ہزار چنار کے درخت تھے جو کم ہوکر سولہ ہزار رہ گئے ہیں۔ |