مسلح شورش: پاکستان کنارہ کش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستان کشمیر میں مسلح شورش سے کنارہ کش ہو چکا ہے تاہم بھارت کی وجہ سے صورتحال بدل بھی سکتی ہے‘۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کا دورہ کر کے آنے والے حریت کانفرنس کے رہنما نعیم احمد خان نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن عمل کو معتبر بنانے کے لیے پاکستان نے، ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں اٹھارہ سال سے جاری مسلح شورش میں اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے کردار کو ختم کر دیا ہے۔ اب کوئی بھی کشمیر کے اُس حصے سے ہتھیار لے کر کشمیر کے اس حصے میں نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس سنجیدگی سے امن عمل میں اعتباریت پیدا ہوئی ہے، تاہم اگر ہندوستان بقول ان کے ’ہٹ دھرمی‘ پر قائم رہا تویہ عمل پٹری سے اُتر بھی سکتا ہے۔ نعیم خان نے ذاتی مشاہدے کی بنا پر بتایا کہ ’آزاد کشمیر‘ کا اگر کبھی یہاں کی مسلح جدوجہد میں کوئی رول تھا تو وہ ختم ہو چکا ہے۔ سرحدوں پر دراندازی صفر ہے۔ اس کا اعتراف خود ہندوستان کے اعلیٰ فوجی حکام کر چکے ہیں۔ پاکستان نے اس قدر یک طرفہ اقدام تاریخ میں کبھی نہیں کیے، کل کو اگر کچھ ہوتا ہے تو پاکستان کو یہ کہنے کا جواز ملے گا کہ اس کی لچک کو حکومت ہند نے نظر انداز کیا تھا۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا مسلح قیادت میں پاکستان کی اس نئ پالیسی پر کوئی بے چینی پائی جاتی ہے، مسٹر خان نے کہا کہ ’میں ذاتی طور مسلح قائدین سے ملا ہوں اور انہوں نے فوجی انخلاء کو بنیاد بنا کر امن عمل کو سپورٹ کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن سوال یہ ہے کہ فیصلہ کن مذاکرات میں مسلح قیادت کو لیڈ رول دینا ہوگا، اس کے بغیر چارہ نہیں، پاکستان اس کے لیے تیار ہے لیکن ہندوستان کے تحفظات ہیں۔ بس یہاں بات رُکی ہوئی ہے‘۔
پچھلے چند ماہ سے ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی جنگجو کاروائیوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نعیم خان کا استدلال تھا کہ موجودہ سیاسی تناظر میں پاکستان کو تشدد راس نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بات کو باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب پاکستان روایتی موقف ترک کرکےریکارڈ لچک کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہو، تو تشدد کس کی مدد کرے گا۔ کون مذاکرات سے بھاگنا چاہتا ہے‘۔ اس سوال پر کہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کل جو کچھ ہورہا ہے، یہ ہندوستان کروا رہا ہے؟ ’میں یہ نہیں کہتا، میرا مطلب ہے کہ امن عمل کو با اعتبار بنانے کے لیے آزاد کشمیر کو مسلح رول سے پاک کرنا ایک اہم بات تھی۔ یہ تو پاکستان نے کر دیا۔ ہندوستان عرصہ سے مذاکرات کو تشدد کے خاتمہ کے ساتھ مشروط کرتا آیا ہے۔ اب تو پاکستان نے عدم تشدد کی عملی گارنٹی دی ہے۔ اب اگر ہندوستان کی نیت آگے بڑھنے کی نہ ہو تو آپ ہی بتائیے کہ تشدد کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ آج کے بعد کشمیر میں پرتشدد وارداتوں کی ہندوستان اور پاکستان دونوں مشترکہ طور تفتیش کریں‘۔ نعیم خان نے مزید بتایا کہ ’آزاد کشمیر‘ میں پاکستانی وفاق کے خلاف کوئی عوامی تحریک موجود نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے اپنے علاقے سے فوج نکالنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہاں ہندوستان محض ری لوکیشن کا ہوا کھڑا کرکے مزید چھاؤنیاں تعمیر کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے جنوبی کشمیر میں ہزاروں کنال اراضی پر زیر تعمیر دفاعی ہوائی اڈے اور دیگر مقامات پر نئی چھاؤنیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم فوجی انخلاء چاہتے ہیں اور اس کا مطلب ہے پوری ریاست سے لاکھوں فوجی آبادیوں کو خالی کیا جائے‘۔ | اسی بارے میں کشمیر میں بیٹوں سے بیٹیاں اچھی26 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں برفباری، زندگی مفلوج13 March, 2007 | انڈیا ’کشمیر سے انخلا، قیاس آرائیاں ہیں‘04 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں فوج، پراسرار آگ،سخت ٹریفک قوانین04 March, 2007 | انڈیا ’کشمیر سے فوجی انخلاء پر اتفاق‘03 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں اسرائیل مخالف مظاہرے16 February, 2007 | انڈیا کشمیر پردعویٰ برقرار: پاکستان 10 February, 2007 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||