کشمیر میں بیٹوں سے بیٹیاں اچھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علی محمد مغل چھ بیٹیوں کے باپ ہیں۔ ان کے بھائی محمد امین کی چار بیٹیاں ہیں۔ دونوں بھائیوں نے بیٹا ہونے کا انتظار کیا۔ جو نہ ہوا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کے تیسرے بھائی عبدالرشید نے جس کی بیوی کے کوئی بچہ نہیں ہوا ایک لڑکے کے بجائے لڑکی کو گود لیا ہے۔ بھارت کی ديگر ریاستوں کی طرح کشمیر میں بھی بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیج دی جاتی ہے۔ غیر معمولی تعداد میں نہ سہی لیکن وادی میں ایسے واقعات ضرور پیش آتے ہیں کہ ایک عورت کو جب یہ پتہ چل جائے کہ اس کے ہاں بیٹا نہیں بیٹی ہونے والی ہے تو وہ اپنا حمل گرا دیتی ہے۔ اس کے باوجود بچوں کو گود لینے والے بے اولاد والدین لڑکیوں کو ترجیج دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر والدین کا کہنا ہے انہوں نے لڑکی کو اس لیۓ گود لیا کہ لڑکی اپنے ماں باپ کی محبت کا صلہ مجت سے دیتی ہے اور اگرچہ شادی کے بعد وہ اپنے گھر چلی جاتی ہے لیکن اسے اپنے والدین کی فکر رہتی ہے۔ سری نگر کے غلام مصطفے ملک کا کہنا ہے ’ لڑکی اکثر اپنے ماں باپ کی ہمدرد ہوتی ہے۔ شادی کے بعد اسے اپنے والدین کی فکر رہتی ہے۔ وہ بڑھاپے میں بھی ان کا خیال رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے لڑکی کو گود لیا ہے۔‘
مشرق کے ديگر حصوں کی طرح کشمیر میں بھی مشترکہ کنبوں کا نظام قائم ہے۔ بوڑھے والدین اپنے بیٹوں اور ان کے بیوی بچوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں لیکن غلام حسین بلبل کہتے ہیں کہ آج کل بیٹے شادی کے بعد ماں باپ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ’میں نے اپنے پڑوس میں دیکھا کہ کس طرح والدین نے اپنے بیٹوں کی پرورش کی۔ ان کی پڑھائی پر خوب پیسہ خرچ کیا اور انہیں ڈاکٹر اور انجینئر بنایا مگر شادی کے بعد ان کے بیٹے الگ رہنے لگے۔ انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کو وہ اپنے عمر رسیدہ والدین کے سہارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میاں بیوی نے ایک لڑکی کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔‘ غلام رسول کے چار بیٹے ہیں لیکن انہیں لڑکی کی زبردست خواہش تھی چنانچہ انہوں نے ایک لڑکی کوگود لیا ہے۔ کشمیری میں لڑکی کو ’کور‘ کہتے ہیں۔ غلام رسول کہتے ہیں ’ کور گیر جنتچ حور‘ یعنی لڑکی جنت کی حور ہوتی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ عمرانیات کی سربراہ ڈاکٹر انسیہ شفیع کا کہنا ہے کہ دیگر معاشروں کے برعکس کشمیر میں عورت کو بہتر درجہ حاصل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کشمیر میں شاید ہی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہو کہ جہیز کے معاملے پر عورت کا قتل کیا گیا ہو۔ ’میں نہیں کہتی کہ ہم کشمیر کے لوگ پوری طرح سے آزاد خیال ہیں لیکن عورت کے حوالے سے ہماری قدریں کافی مضبوط ہیں۔ بچپن سے ہی ہم اولاد کو ماں کے بلند درجے کی اہمیت سکھاتے ہیں۔‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تقربیا پچاس لاکھ لڑکیوں کوپیدائش سے پہلے مار ڈالا گیا اور ملک میں اس طرح کے واقعات میں ہرسال اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں بہار اور پنجاب ایسی ریاستیں ہیں جہاں لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے مارنے کے واقعات ہوئے ہیں اور لڑکیوں اور لڑکوں کا تناسب بہت کم ہے۔ کشمیر بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے، البتہ کشمیر کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں ’فیمیل فیٹسائیڈ‘ یا رحم مادر میں لڑکیوں کو مارنے کے واقعات کم ہی ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں18 February, 2007 | انڈیا مدھیہ پردیش: عورت ستی ہوگئی22 August, 2006 | انڈیا دلت لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا25 November, 2006 | انڈیا غریب لڑکیوں کی شادی یا’ فروخت‘14 October, 2006 | انڈیا غیر مسلم لڑکیاں برقعہ میں!13 October, 2006 | انڈیا بہار کی فٹبال دیوانی لڑکیاں26 June, 2006 | انڈیا پتھر کے لنگور، مون سون، لڑکی ہونے کا فائدہ!03 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||