جب لڑکا بن جائے لڑکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوں تو اداکاری کا مطلب ہی روپ بدلنا ہے، یعنی آپ وہ نظر آئیں جو آپ حقیقت میں نہیں ہیں، چنانچہ ایک خوش و خرم زندگی گزارنے والا معقول اداکار کیمرے کے سامنے آکر کبھی تو ایک غمگین، پریشان اور مفلوک الحال مزدور بن جاتا ہے اور کبھی ایک ایسے کروڑ پتی سمگلر کا روپ دھار لیتا ہے جو دنیا کا امیر ترین آدمی بننے کے خواب دیکھ رہا ہو۔ اداکاری یقیناً اسی دھوپ چھاؤں کا نام ہے لیکن بعض اوقات اداکار اپنی ذات سے بہت مختلف کردار اپنانے کا چیلنج قبول کر لیتے ہیں۔اگر کوئی جوان اداکار ایک اسّی سالہ بوڑھے کا کردار قبول کر لیتا ہے تو اُس میں فنِ اداکاری کے ساتھ ساتھ میک اپ آرٹسٹ کا فن بھی آزمائش کے کٹہرے میں پہنچ جاتا ہے۔ یہی صورتِ حال اُس وقت پیش آتی ہے جب کوئی عورت رُوپ بدل کر آدمی بننا چاہے یا کوئی لڑکا کسی لڑکی کا بھیس بدل لے۔
عورت کا آدمی بننا نسبتاً آسان ہے صرف داڑھی، مونچھ اور ٹوپی یا پگڑی سے اصلیت چھپا لی جاتی ہے۔ البتہ جب کوئی لڑکا نِسوانی روپ اختیار کرتا ہے تو معاملہ خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں منوّر ظریف مرحوم بڑی کامیابی سے عورت کے روپ میں ڈھل جایا کرتے تھے۔ایک ناز نخرے والی عورت، جو عشوہ و غمزہ دِکھا کر کئی دِل پھینک مردوں کو پیچھے لگا لیتی تھی۔
سن 60 کی دہائی میں بننے والی بہت سی پنجابی فلموں میں منور ظریف سے یہ کام لیا گیا۔ زنانہ لباس پہنا کر انھیں صرف ایک دھوکے باز حسینہ کے طور پر ہی استعمال نہیں کیا جاتا تھا بلکہ اُن پر کم از کم ایک مزاحیہ گیت اور ایک اُوٹ پٹانگ رقص بھی فلمایا جاتا تھا۔ اِس فلمی روایت کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو بہت سے عالمی شہرت یافتہ اداکار اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔
Some Like it Hot میں جیک لیمن کا نسوانی کردار کسے بھُول سکتا ہے۔ اسی طرح ڈسٹن ہاف مین نے ٰ ٹوٹسیٰ میں اور رابن ولیمز نے ٰ مِسز ڈاؤٹ فائرٰ میں صِنفی تبدیلی کا کامیاب مظاہرہ کیا تھا۔ پاکستان کے نئے ٹی وی چینلوں پر حال ہی میں مقبول ہونے والا کردار
بالی وُڈ میں بھی اس فن کا مظاہرہ بڑی کامیابی سے ہوتا رہا ہے، کشورکمار نے ’ہاف ٹکٹ‘ میں، امیتابھ بچن نے فلم ’لاوارث‘ میں، رشی کپور نے ’رفو چکّر‘ میں انوپم کھیر نے ’زمانہ دیوانہ‘ میں، کمل ہاسن نے ’چاچی 420 ‘ میں اور گووندا نے ’آنٹی نمبر ون‘ میں تبدیلی جِنس کا زبردست مظاہرہ کیا تھا۔ بعد میں عامر خان اور سلمان خان نے بھی بالترتیب ’بازی‘ اور ’جانِ من‘ میں نسوانی کردار نبھانے کا چیلنج قبول کیا۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ہے فلم ’اپنا سپنا منی منی‘ جِس میں ریتیش دیش مُکھ نے اِس فن کو نقالی کی پستی سے اُٹھا کر اعلیٰ کردار کاری کے منصب پر پہنچا دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ساڑھی پہن کر خرمستیاں کرنا تو بہت آسان کام ہے لیکن خود کو سرتاپا نسوانیت کے سانچے میں ڈھال لینا اور مطلوبہ عرصے تک مسلسل اپنی شخصیت کو اسی کیفیت میں رکھنا اصل چنوتی ہے۔ | اسی بارے میں دوبئی میلہ: عرب فلم سازی کا احیاء21 September, 2006 | فن فنکار راجپوت شہزادی: نیا فلمی تنازعہ13 November, 2006 | فن فنکار ہزاروں عورتیں ۔ ایک دیوانگی04 November, 2006 | فن فنکار مہنگی فلمیں: لاگت کیسے پوری ہو؟26 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||