ہزاروں عورتیں ۔ ایک دیوانگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرشن چندر کا مقبول ناول ’ایک عورت ہزار دیوانے‘ کسے یاد نہ ہوگا لیکن فریال گوہر نے کرشن کے پچاس برس بعد جو کچھ لکھا ہے اسے بجا طور پر اُن ہزاروں عورتوں کی کہانی کہا جا سکتا ہے جو بظاہر صنفِ مخالف کی مردانگی کا، لیکن دراصل اُن کی دیوانگی کا شکار ہوئی ہیں۔ وہی دیوانگی جو کبھی بچّی کے پیدا ہوتے ہی اس کا گلا گھونٹ دیا کرتی تھی۔۔۔ وہی دیوانگی جو آج قبل از پیدائش ہی اسے ماں کے پیٹ میں موت کی نیند سُلا دیتی ہے۔ فریال گوہر کا لکھا اور پیش کیا ہوا سٹیج کا کھیل ’خالی کمرہ‘ اسی مظلوم صنف کی داستان ہے لیکن مظلومیت کی یہ کہانی کسی دبکی ہوئی بے زبان عورت کے ذریعے نہیں بلکہ ایک صاف گو اور بے باک خاتون کی زبان سے ادا کی گئی ہے جو اکیلی سٹیج پر نمودار ہوتی ہے اور جس کی خود کلامی بتدریج ناظرین کی آواز بن جاتی ہے۔ ناظِر اور منظر ایک ہو جاتے ہیں اور یہ ربطِ باہم جلد ہی اُس منزل پر پہنچ جاتا ہے جہاں: کھیل شروع کرنے سے پہلے اُن پاکستانی عورتوں کے بارے میں ایک ڈاکو منٹری دکھائی گئی جن کے چہرے مردوں کے پھینکے ہوئے تیزاب سے جھُلس چکے ہیں۔ ان عورتوں کے مسخ چہروں کو پھر سے انسان نما بنانے کے لیے بیوٹیشن مسرت مصباح کی تنظیم ڈیپلیکس کچھ عرصے سے سرگرمِ عمل ہے اور اب ’سماِئیل اگین‘ (پھر سے مسکرا دو) نامی ادارے کے تعاون سے انھوں نے تہّتر پاکستانی خواتین کے تیزاب خوردہ چہروں پر زندگی کی رونقیں بحال کی ہیں۔ اس کارِ خیر میں اٹلی کے سرجنوں کی ایک ٹیم پاکستان آکر اُن کا ہاتھ بٹاتی رہی ہے۔ بہت زیادہ مسخ شدہ چہروں والی کچھ خواتین کو اٹلی لے جا کر بھی ان کا علاج کیا گیا ہے۔ فریال گوہر کا سٹیج پلے ’خالی کمرہ‘ عوام کو اسی گمبھیر مسئلے سے آگاہ کرنے اور اس صورتِ حال کے خاتمے کےلیے اِن میں شعور بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سوا گھنٹے تک ہال میں بیٹھے سینکڑوں افراد کو سٹیج پر موجود فردِ واحد نے اپنی اداکاری اور صدا کاری سے مسحور کیئے رکھا۔ ہفت زباں اداکارہ نے اردو انگریزی اور پنجابی میں روانی سے صدا کاری کے جوہر دکھائے اور بیانیئے کے تنّوع نے کہیں بھی دیگر اداکاروں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ لاہور میں کامیاب نمائش کے بعد یہ یک کرداری ڈرامہ اب امریکہ روانہ ہو رہا ہے جہاں اس کا اوّلین شو شکاگو میں منعقد ہوگا۔ | اسی بارے میں کشمیر: عورتوں کا رسالہ متنازع 23 May, 2006 | فن فنکار جنت مرد کے پہلو میں نہیں09 March, 2004 | فن فنکار ’۔۔۔ قمیض اتارنا شروع کردی تھی‘16 July, 2004 | فن فنکار رفیع پیر یوتھ تھیٹر فیسٹیول22 January, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||