کشمیر: عورتوں کا رسالہ متنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلی بار عورتوں کے لیے ایک انگریزی رسالہ نے اپنی اشاعت کا آغاز کیا ہے اور اس کی پہلی اشاعت ہی بحث مباحثے کا باعث بن گئی ہے۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے عورتوں کے لیے ایک انگریزی رسالے ’شی‘ کی پہلی اشاعت متنازع بن گئی ہے۔ ’شی‘ کے نام سے شائع ہونے والے اس رسالے کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد بازاروں کے چکر لگائے کیونکہ اس رسالے کے اجراء کے بارے میں ایسی خبریں شائع ہو رہی تھیں جن سے لوگوں میں تجسس بھی تھا اور دلچسپی بھی۔ لیکن کسی کو بھی بازار سے ’شی‘ کی کاپی نہیں مل سکی۔ کیونکہ رسالے کا پہلا شمارہ صرف اعزازی طور پر فراہم کیا گیا تھا۔ لوگوں کے تجسس اور دلچسپی کی وجوہات دو تھیں۔ ایک تو یہ کہ ایڈیٹروں میں سے ایک شیبا مسعودی، جو کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق کی اہلیہ ہیں اور جن کی تعلیم و تربیت امریکہ میں ہوئی ہے۔ دوئم یہ کہ پہلے ہی شمارے میں ایک مضمون شامل ہے جو نوجوانوں کی ڈیٹنگ کے بارے میں ہے۔ ان دو کے اشتراک نے پہلے شمارے میں نہ صرف لوگوں کے لیے دلچسپی کا خاصا سامان فراہم کر دیا بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی اس پر وہ توجہ دینی پڑی جو عام طور پر جرائد کو اشاعت کو نہیں ملتی۔ سری نگر میں خان نیوز ایجنسی کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کم از کم دو سو لوگ رسالے ’شی‘ کے لیے آئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک تو اخبارات نے اس کے بارے میں خبریں شائع کی تھیں پھر لوگوں کو میر واعظ کے خاندان کی ایک خاتون کی رسالے سے وابستگی کی وجہ سے بھی تجسس تھا۔ لیکن شیبا مسعودی رسالے کے حوالے سے زیادہ سرگرم نہیں ہیں اور اس حوالے سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ رسالے کے حوالے سے انٹرویو کے لیے کی جانے والی تمام درخواستیں ان کی ساتھی ایڈیٹر صائمہ فرہاد کو منتقل کر دی جاتی ہیں۔ صائمہ فرہاد کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی اینڈ سوشل ورک میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ صائمہ کا کہنا ہے کے ’میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ لوگ میر واعظ کے حوالے کو اتنا کیوں اچھال رہے ہیں۔ شیبا ایک فرد ہیں اور وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ’عورت کو ہمشہ کسی رشتے ہی سے کیوں دیکھا جائے، وہ ہمیشہ کس کی بیوی، کس کی بیٹی اور کس کی بہن کے حوالے سے کیوں جانی جائے‘ کیا وہ بذاتِ خود کچھ نہیں ہو سکتی؟‘۔ صائمہ فرہاد اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے رسالے نے خاصے تنازعات پیدا کیے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اس کے مندرجات کے بارے میں علم نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرینگر میں جہاں کہیں جائیں ’شی‘ کے بارے پر بحث ہو رہی ہے۔ ہر ایک کی اس بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ہے اور اس کی ایک وجہ نوجوانوں کی ڈیٹنگ یا معاشقوں کے بارے میں ایک فیچر ہے۔ صائمہ فرہاد دلیل دیتی ہیں کہ ’سب کو پتہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے لیکن کوئی بھی اس بارے میں بات کرنے پر تیار نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ جب تک ہم اس پر بات نہیں کریں گے اس نجات نہیں مل سکتی‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیچر کے بارے میں ریسرچ کے دوران خاص طور پر لڑکیاں خجالت محسوس کر ہی تھیں اور اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں کہ وہ ڈیٹ کرتی ہیں۔ صائمہ نے بتایا کہ جب ہم نے لڑکیوں سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کا کوئی بوائے فرینڈ ہے تو ان کا جواب ہوتا تھا ’نہیں میرا تو نہیں لیکن میری دوست کا ہے‘۔ رسالے کو پسند کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس رسالے کے ذریعے ایک مفید مقصد حاصل ہو گا۔
کشمیر یونیورسٹی میں میڈیا ایجوکیشن کے شعبے سے وابستہ مسلم جان کا کہنا ہے کہ ’اس رسالے کی اشاعت سے عورتوں کہ مسائل پر بحث کا ایک پلیٹ فارم حاصل ہو جائے گا‘۔ اگرچہ یہ رسالہ انتہائی بنیادی نوعیت کا ہے اور صرف سولہ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں’ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل‘ اور ’عورتوں میں پستانوں کے کینسر سراغ جلد کیسے لگایا جا سکتا ہے؟‘ ’کشمیری عورتیں، ذرائع ابلاغ میں‘ جیسے دوسرے مسائل کے بارے میں بھی اہم مواد ہے اور بیوٹی ٹپس، شاعری لطیفے وغیرہ بھی ہیں لیکن بحث کا موضوع صرف ڈیٹنگ والا فیچر ہی بنا ہوا ہے۔ اس فیچر ایک طالبِ علم کے حوالے سے کہا گیا ہے: اس میں کیا ہے، میرے تمام دوستوں کی دوستیں ہیں‘۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں کیفوں کے کیبنوں میں ہوتی ہیں۔ کیفوں کے مالکوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کیبنوں میں کیا ہوتا ہے ان کو تو بیس روپے ملنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ روایتی معاشرے میں اس طرح کے تعلقات بہت لمبے نہیں چلتے۔
اس سلسلے میں ایک طالبِ علم بلال ڈار کا کہنا ہے کہ ’ہمارا معاشرہ روایتی ہے۔ ڈیٹینگ ایک نیا رجحان ہے لیکن یہ اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہا جیسا کے چکنے کاغذ پر چھپنے والے رسالے میں کہا گیا ہے‘۔ ایک طالب علم جانثار قریشی کا کہنا ہے کہ ’عورتوں کے بارے میں رسالہ نکلنا اچھی بات ہے لیکن اس میں سیاسی اور مذہبی مسائل کے بارے میں بھی مضامین ہونے چاہئیں۔ کشمیر ایک مذہبی ریاست ہے اور ہم مذہب کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں‘۔ دوسرے طالب علموں، جیسے فہیم اسلم کا ردِ عمل اس رسالے کے بارے میں مثبت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بے شک یہ ایک اچھا رسالہ ہے‘۔ باتوں باتوں کے دوران جب میں نے یونیورسٹی کی ایک نوجوان خاتون سے یہ پوچھا کہ ’کیا آپ کا بھی کوئی بوائے فرینڈ ہے؟‘۔ تو پہلے تو ان کا چہرہ حجاب یا شرم سے سرخ ہو گیا لیکن پھر انہوں نے خود پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا ’ یہ میرا نجی معاملہ ہے‘۔
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے لوگوں کو کس طرح کی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔ لیکن ایک اور طلبِ علم کا کہنا ہے ’معاشقے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے اور اتنی ہی قدیم ہے جتنی قدیم ہماری تہذیب ہے اور اس کی ابتدا تو آدم و حوا سے ہو گئی تھی۔ لیکن یہاں اب اسے ایک ممنوعہ اور ٹیبو کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے‘۔ | اسی بارے میں ڈل جھیل کی بے رونقی19.10.2002 | صفحۂ اول دراس: آتشیں سردی12.03.2003 | صفحۂ اول کشمیر انتخابات: تصاویر میں16.09.2002 | صفحۂ اول کشمیر انتخابات: منظر پس منظر05.09.2002 | صفحۂ اول کیڈبری یا کشمیر؟20.08.2002 | صفحۂ اول ’اپنے گریبان میں جھانکیں‘15.08.2002 | صفحۂ اول ’کشمیرتنازعہ ہے،لوگ خودحل کریں‘15.08.2002 | صفحۂ اول کشمیر عالمی مسئلہ نہیں: صدر 14.08.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||