BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 July, 2004, 22:28 GMT 03:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’۔۔۔ قمیض اتارنا شروع کردی تھی‘

فحاشی
حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی تھیٹروں کو فحاشی پر متنبہ کیا تھا
گوجرانوالہ میں فحاشی اور عریانی پھیلانے کے الزام میں دو تھیٹر ہال سیل کردیے گئے ہیں اور سات اداکاراؤں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور تین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے کئی بار مذکورہ تھیٹر ہالوں ، راکسی اور پنجاب تھیٹر، کو تنبیہ کی تھی کہ ووہ ڈراموں میں فحاشی ختم کردیں لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

جمعہ کو انتظامیہ نے دونوں تھیٹر ہالوں کو مہر بند کردیا اور ان میں کام کرنے والی سات اداکاراؤں پر محکمہ داخلہ نے صوبہ بھر میں تھیٹرمیں کام کرنے پر پابندی لگادی۔

جن اداکاراؤں پر پابندی لگی ان میں ندا چوہدری، گلنار، صائمہ، رانیا، امبر شاہ، مہک جان اور شامین شامل ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے کہ اداکارہ صائمہ اور سیمی سیال ایک ڈرامہ ’ہن مزہ آئے گا‘ میں اپنی قمیض اتارنا شروع کردی تھی۔

گوجرانوالہ کے ضلعی پولیس افیسر کے حکم پر ان دونوں اداکاراؤں اور ڈرامہ کے پروڈیوسر محمد عارف کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات دو سو باون اور دو سو چون کے تحت سیٹلائیٹ ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ تاہم ان سب نے عدالت سے تئیس جولائی تک اپنی عبوری ضمانت کروالی۔

گزشتہ دس دن کے دوران فحاشی کے الزام کے تحت لاہور میں چار اسٹیج تھیٹر ڈراموں پر پابندی عائد فاذ کی جا چکی ہے۔

پنجاب میں انیس سو چھہتر کے ڈرامہ ایکٹ کے مطابق محکمہ داخلہ ، ضلعی حکومت اور پنجاب آرٹس کونسل تھیٹر ڈراموں کی نگرانی اور کنٹرول کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد