ایک اور تھیٹر ڈرامہ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے تماثیل تھیٹر میں چلنے والے ڈرامہ ’کھلی چھٹی‘ پر محکمہ داخلہ کے حکم پر ضلعی حکومت نے پابندی لگادی ہے۔ ڈرامہ پر سکرپٹ سے ہٹ کر مکالمے بولنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ضلعی حکومت کے ڈرامہ کی نگرانی کرنے والے اہلکار طارق زمان نے کہا کہ یہ ڈرامہ چھ دن چلا ہے اور ہر روز اسکرپٹ بدل جاتا تھا جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ڈرامہ پر فحاشی یا بے ہودگی کا الزام نہیں ہے۔ ڈرامہ کی ہدایت کار ناہید خانم کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی رقص نہیں تھا اور کوئی بے ہودہ مکالمہ بھی شامل نہیں تھا۔ البتہ سینئر فنکار کبھی کبھی اپنی طرف سے کوئی مکالمہ بول جاتے ہیں جو تھیٹر میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ لاہور میں گزشتہ دو ہفتوں کے دروان چوتھا تھیٹر ڈرامہ ہے جسے بند کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے محفل ، الفلاح اور کراؤن تھیٹر کے ڈراموں پر فحش مکالمے اور بے ہودہ رقص دکھانے کے الزام میں پابندی لگائی گئی تھی۔ تاہم کراؤن تھیٹر کے ڈرامہ پر عائد پابندی چند روز پہلے اٹھا لی گئی تھی۔ ضلعی حکومت کے اہلکار نے بتایا کہ ناز تھیٹر میں ’کڑی پٹولہ‘ ڈرامہ میں رقاصہ زارا اکبر نے پہلے روز فحش رقص کیا تھا اور ہم نے ان پر فحش رقص کرنے کے الزام میں پابندی لگانے کی سفارش بھی کی تھی لیکن محکمہ داخلہ نے فی الحال زارا اکبر کو ایک جواب دہی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||