مہنگی فلمیں: لاگت کیسے پوری ہو؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی چار اُردو فلموں میں سے ہدایتکار سعید علی خان کی ’گناہوں کا شہر‘ ہدایتکار مسعود بٹ کی ’زمین کے خدا‘ اور ہدایتکار رونق علی کی ’ون ٹو کا ون‘ درمیانے بجٹ کی فلمیں ہیں لیکن ہدایتکارہ سنگیتا کی ’تڑپ‘ کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ ایک بڑے بجٹ کی فلم ہے جس میں نہ صرف بیرونی ممالک کے مناظر اور بھارتی اداکار شامل ہیں بلکہ اسکی پوسٹ پروڈکشن اور موسیقی بھی ہندوستان میں تیار کی گئی ہے۔ خود فلم ساز کا کہنا ہے کہ اِس پروڈکشن پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہوگئے ہیں لیکن محتاط اور غیر جانبدار اندازے کے مطابق بھی تڑپ پر ڈھائی تین کروڑ سے کم لاگت نہیں آئی جوکہ پاکستانی معیار سے خاصی بڑی رقم ہے، اور پاکستانی سینما گھروں کے ذریعے اتنی بڑی رقم کی واپسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ قبل ازیں ریما خان اور جاوید شیخ بھی بڑے بجٹ کی فلمیں بنا چُکے ہیں لیکن ان کی لاگت کا ایک بڑا حصّہ بیرونِ ملک نمائش کے ذریعے پورا کیا گیا تھا، جیسا کہ ہمسایہ ملک بھارت میں عام رواج ہے۔ ممبئی کی فلم انڈسٹری کو بجا طور پر دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سالانہ ڈیڑھ کھرب روپے کے خرچے سے کوئی نو سو فلمیں تیار ہوتی ہیں۔ اِن میں ستّر اسی لاکھ کی معمولی رقم سے بننے والی آسامی، پنجابی اور کنڑ فلموں سے لے کر پچیس تیس کروڑ والی ملبوساتی ہندی فلمیں تک شامل ہیں جِن کی محض موسیقی ہی کروڑوں روپے میں تیار ہوتی ہے۔ بعض فلم سازوں نے کاغذوں میں اپنے اخراجات پچاس کروڑ تک بھی دکھائے ہیں لیکن اگر اسے ٹیکس بچانے کی خاطر دیا گیا ایک مبالغہ آمیز بیان بھی سمجھ لیا جائے تو عقلِ سلیم پھر بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ بڑی کاسٹ کی ممبّیا فلم پر دس سے بیس کروڑ روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں۔
پندرہ کروڑ کے اوسط بجٹ سے پروڈیوس ہونے والی ممبئی کی اِن نسبتاً مہنگی فلموں کے لئے اگرچہ خود ہندوستان کے طول و عرض میں ایک وسیع ماکیٹ موجود ہے، لیکن اس خطیر رقم کی واپسی کے لئے ہر فلم ساز کی نگاہیں امریکہ، برطانیہ اور مشرقِ وسطیٰ کی نفع بخش مارکٹ پر مرتکز رہتی ہیں۔ پانچ برس پہلے جب کرن جوہر اور اُن کے ساتھیوں نے ’ کبھی خوشی کبھی غم‘ ریلیز کی تو اسے بیرونِ ملک سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی فلم قرار دیا گیا تھا لیکن ابھی چند ہی روز پہلے یہ ریکارڈ اُس وقت ٹوٹ گیا جب امریکہ میں کرن جوہر ہی کی نئی فلم ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ نے باکس آفس پر بے مثال کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں لندن میں بھی اس فلم نے آمدنی کا نیا ریکارڈ قائم کیا اور اس طرح امیتابھ، ابھیشیک، شاہ رخ، رانی مکھر جی اور پریتی زنٹا جیسے ستاروں سے مزین یہ فلم جسکی خود اپنے وطن میں زیادہ پذیرائی نہ ہو پائی تھی اسے بیرونِ ملک ناظرین کے سامنے سرخ رو ہونے کا موقع مل گیا۔
اس فلم نے کاروباری حلقوں پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور مڈل ایسٹ کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا تک میں ہندوستانی فلم کے اہم ناظرین موجود ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے شعبہء تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ میں ساری دنیا کے ملکوں کی فلمیں ریلیز ہوتی ہیں لیکن سب سے زیادہ بزنس بھارتی فلمیں کرتی ہیں اور امریکی مارکٹ میں انکی سالانہ آمدنی ایک سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ’ٰ کبھی خوشی کبھی غم ‘ نے امریکہ میں نمائش کے پہلے ہی دو دِنوں میں دس لاکھ ڈالر کمائے تھے اور ایک مہینے کی نمائش کے دوران اس نے کُل 29 لاکھ ڈالر کمائے۔ یہ ریکارڈ تین برس تک قائم رہا اور نومبر 2004 میں یش چوپڑا کی فلم ’ویر زارا ‘ نے تقریباً اتنی ہی رقم کما کر یہ ریکارڈ برابر کر دیا۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ’ویر زارا‘ خود ہندوستان میں اتنی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ امریکہ کے داستانی کردار سُپر مین سے کڑے مقابلے کے دوران بھارتی فلم ’ کرش‘ نے خود امریکہ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے کیونکہ ناظرین میں آدھے سے زیادہ غیر ایشیائی باشندے شامل تھے۔ شاید اسکا ایک سبب یہ بھی ہو کہ کرش خود ’ کوئی مِل گیا‘ کا سیکوئیل تھی جو کہ جدید امریکی دیو مالا کے اہم کردار ای۔ٹی سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ لاس انیجلز ٹائمز کے مطابق ’ کرش‘ کے پچہتر پرنٹ امریکہ میں ایک ساتھ ریلیز کیے گئے تھے اور پہلے دِن کی مجموعی آمدنی چھ لاکھ تینتالیس ہزار ڈالر تھی۔ دیگر ممالک کی آمدنی کو بھی سامنے رکھا جائے تو اس فلم نے پہلے ہفتے کے دوران کُل ڈیڑھ کروڑ ڈالر کمائے۔ دیارِ مغرب میں ہندوستانی فلموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث اب فلم ساز اپنی بہت سی کہانیاں مغربی ممالک کے پس منظر میں لکھوا رہے ہیں، یا کم از کم کوئی ذیلی پلاٹ ضرور مغربی دنیا کا ڈال دیتے ہیں جس کے بہانے کچھ کام برطانیہ، یورپ، امریکہ یا آسٹریلیا میں فلمانے کا موقعہ مل جاتا ہے اور اِن ممالک کے ناظرین اپنی جانی پہچانی جگہوں پر امیتابھ، شاہ رخ، رتک روشن، پریتی زنٹا اور کرینہ کپور کو ناچتے گاتے دیکھ کر فلم کے لئے خاص طرح کی اپنائیت محسوس کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اس لطف اندوزی کے لئے مغرب میں مقیم ناظرین دس پندرہ ڈالر یا آٹھ دس پاؤنڈ آسانی سے خرچ کر سکتے ہیں اور یہی ڈالر پاؤنڈ جمع ہو کر ممبئی میں بیٹھے فلم ساز کی جھولی میں پہنچتے ہیں تو اسکا کروڑوں کا خرچ پورا ہوتا ہے اور وہ بڑے بجٹ کی ایک اور فلم بنانے کا حوصلہ پاتا ہے۔ یہ تو تھا ممبئی کے سیٹھ کا مسئلہ۔ لاہور میں بیٹھا ہوا پاکستانی سیٹھ اتنا زیادہ فکر مند نہیں ہے کیونکہ اسے اپنا بیس تیس کروڑ نہیں صرف تین چار کروڑ واپس چاہیئے جو کہ محض لندن، نیو یارک اور دوبئی میں ایک بھر پور نمائش سے حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک پاکستانی فلم کو کاروبار کی اس معمولی منزل تک پہنچنے کے لئے بھی انتہائی کٹھن راستوں سے گزرنا پڑتاہے۔ |
اسی بارے میں عید پر گیارہ نئی فلمیں23 October, 2006 | پاکستان ’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘26 September, 2006 | فن فنکار ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||