فلم مغل اعظم: مکالموں پر مبنی کتاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں مرحوم کے آصف کی معروف فلم مغل اعظم کے یادگار مکالموں پر مشتمل کتاب لانچ کی گئی۔ کتاب کی رونمائی نامور نغمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر جاوید اختر کے ہاتھوں ممبئی کے جوہو کراس ورڈ میں ہوئی۔ اس کتاب کا نام The Immortal dialogue Of K Asif’s Mughal-e-Azam ہے۔ چار زبانوں میں فلم کے یادگار مکالموں کو لکھا گیا ہے۔ فلم میں مکالمے دراصل اردو زبان میں لکھے گئے تھے اس لیئے اردو کے علاوہ اسے ہندی میں لکھا گیا ہے، اور ساتھ ہی ان افراد کے لیئے جو ان دونوں زبان سے ناواقف ہیں، اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہے۔ اس کتاب کی ایک اور خاصیت ہے کہ ان مکالموں کو رومن اردو میں بھی لکھا گیا ہے کیونکہ وہ لوگ جو زبان کی چاشنی اور مکالموں کی روح کو کھونا نہیں چاہتے وہ اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس کتاب کو یہ نیا انداز نسرین منی کبیر اور سہیل اختر نے دیا ہے، جسے دونوں نےڈیڑھ برس میں مکمل کیا۔ کتاب کی رونمائی کے موقع پر نغمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے اردو زبان کی افادیت، شیرینی اور اس کی مقبولیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان مر رہی ہے لیکن یہ ایک زندہ جاوید زبان ہے جو اس طرح لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔ جاوید اختر کا کہنا تھا کہ مغل اعظم ایک کلاسیکل فلم ہے، اس کا ہر ایکٹ اس کے مناظر، اس کے اداکار، اس کے مکالمے سب زندہ جاوید ہیں اور اسی لیئے آج ان مکالموں کو دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ جاوید اختر کے مطابق فلم کے مکالموں نے کئی لوگوں کو اردو زبان سے روشناس کرایا اور کئی نے صرف ان مکالموں کو سمجھنے کے لیئے اردو سیکھی۔ ان کے خیال میں یہ کتاب لندن امریکہ میں کافی مقبول ہو گی۔ فلم میں مکالمے تین نامور مکالمہ نویسوں کی عرق ریزی کا نتیجہ تھے۔ اس فلم کے مکالمے اتنے مقبول ہوئے تھے کہ آج بھی لوگ انہیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ادا کرتے ہیں۔ کیسے فلم میں بادشاہ اکبر انار کلی سے کہتے ہیں کہ ’سلیم تمہیں مرنے نہیں دے گا اور ہم انارکلی تمہیں جینے نہیں دیں گے‘ یا فلم میں مصور بادشاہ کی نعمتیں ملنے کے بعد اس کا مذاق اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ ’خوشی کا اظہار کم ظرف کیا کرتے ہیں‘۔
شاعر اور ادیب سہیل اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مغل اعظم کے مکالموں کو کتابی شکل دینے کا خیال نسرین منی کبیر کا تھا کیونکہ ایک مرتبہ جاوید اختر کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے نسرین سے کہا تھا کہ مغل اعظم کی کہانی اور مکالمے یاد گار ہیں اور اسی لیئے اسے کتابی شکل دی جانی چاہئے۔ انڈین نژاد برطانوی فلمساز اور رائٹر نسرین منی کبیر بھارتی فلم انڈسٹری پر ایک عرصہ سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بالی وڈ پر ریسرچ کی ہے اور کئی کتابیں لکھی ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں انہوں نے سپر سٹار شاہ رخ خان کی روزمرہ کی زندگی پر ’دی انر ورلڈ آف شاہ رخ‘ پر ڈی وی ڈی بنائی تھی۔جس میں انہوں نے شاہ رخ کی زندگی کی پرتیں کھولنے کی کوشش کی تھی۔ فلم مغل اعظم بھارتی فلم انڈسٹری کی یادگار فلموں میں سے ایک ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک ایسی فلم تھی جسے فلم انڈسٹری کا کوئی بھی فلمساز دوبارہ بنانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ حال ہی میں فلم کو رنگین بنایا گیا اور اب ان کے مکالموں پر مشتمل یہ کتاب فلم کے مکالموں کو نئی نسل کے سامنے روشناس کرانے میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ اس کتاب کو آکسفورڈ پریس نے امریکن سینٹر کے تعاون سے شائع کیا ہے۔اس کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے ہے۔ |
اسی بارے میں باادب باملاحظہ ہوشیار، مغل ِاعظم آ رہی ہے22 April, 2006 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی28 April, 2006 | فن فنکار امیتابھ کے لیئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری20 July, 2006 | فن فنکار آئیفا ایوارڈز: موج مستی، ہنگامے19 June, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||