مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چوبیس سال کے بعد آج اتوار کو پہلی بھارتی فلم ’مغل اعظم‘ ریلیز ہو رہی ہے۔ سنیچر کو لاہور کے گلستان سنیما میں اس پہلی بھارتی فلم کا پریمئر شو دکھایا گیا جس میں مقامی حکام اور پاکستان فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ گلستان سنیما کو خصوصی طور پر سجایا گیا تھا پرتھوی راج اور مدھوبالا کے بڑے بورڈ کے علاوہ سنیما کےاندر خصوصی سٹیج لگایا گیاہے۔ مہمانوں کا استقبال گل پاشی اور پھولوں کے ہاروں سے کیا گیا۔ پاکستان کے تھیٹر میں بھارتی فلم میں بنے اکبر بادشاہ کا کردار ادا کرنے والے پرتھوی راج کی گھن گرج والی آواز گونجی تو پریمئر شو دیکھنے والوں پر خاموشی چھا گئی اور ہر ایک کی توجہ سکرین کی جانب ایسی لگی کہ انٹرول پر ہی ہٹ سکی۔ پریمئر شو پر چرچا تھا کہ گورنر پنجاب بھی آئیں گے تاہم وہ نہیں آئے، لیکن حکومت پنجاب کے بعض افسران اور چند سیاست دان اپنی بیگمات کے ہمراہ موجود تھے۔
مغلِ اعظم چوبیس سال کے بعد پہلی بھارتی فلم ہے جو پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بھارتی فلم ’نور جہاں‘ انیس سو اکیاسی میں اور’ کشش‘ انیس سو بیاسی میں ریلیز ہوئی۔ پاکستان فلم سنیما مالکان کی تنظیم کے ایک عہدیدار ضوریز لاشاری نے چوبیس سال بعد بھارتی ریلیز کو اپنی اور سنیما مالکان کی فتح قرار دیا اور کہا کہ اب امید بندھ چلی ہے کہ لوگ سنیما گھروں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر پاکستانیوں کو ہندوستانی آلو ہضم ہوجاتے ہیں تو پھر بھارتی فلموں سے انہیں بدہضمی نہیں ہوگی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ’اگر بھارت سے سبزیاں چینی اور دوسری چیزیں امپورٹ کی جاسکتی ہیں تو پھر فلموں میں کیا ہرج ہے۔‘ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین لاہور کے صدر عزیز الرحمان چن نے کہا کہ ’نظریہ پاکستان اتنا کمزور نہیں ہے کہ وہ بھارتی فلموں سے متاثر ہوجائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ اب پاکستانی فلموں کو اپنا معیار بلند کرنا ہوگا۔‘ ان سے سوال کیا گیا کہ پیپلز پارٹی تین بار اقتدار میں آنے کے باوجود بھارتی فلموں کی پاکستان کی درآمد کی اجازت کیوں نہیں دے پائی تو عزیز الرحمان چن نے کہا کہ ’اس سے ثابت ہوا کہ فوجی جرنیلوں نے پابندی لگائی تھی اور اب انہوں نے ہی پابندی ہٹائی ہے۔‘
عجلت میں ریلیز ہونے والی اس فلم کا صرف ایک ہی پرنٹ تھا اس لیے یہ فلم فی الحال صرف ایک ہی سنیما گھر میں ریلز کی جارہی ہے۔ گلستان سنیما کے مالک عارف خان نے کہا کہ تاج محل بھی انہی کے سنیما میں لگنی تھی لیکن مغل اعظم کی خاطر انہوں نے اس کی بکنگ کینسل کرکے مغل اعظم کی بکنگ کر لی ہے۔ فلم مغل اعظم کوئی ساٹھ کی دہائی میں بنائی گئی تھی اور بلیک اینڈوائٹ تھی جس کے پرنٹ حال ہی میں کلر کرکے دوبارہ ہندوستان کے سنیما گھروں میں ریلیز کی گئی تھی۔ یہ فلم ہندوستان کے بادشاہ جلال الدین اکبر، اس کے بیٹے شہزادہ سلیم اور محل کی ایک کنیز انارکلی کے ارد گرد گھومتی ہے۔ جلال الدین اکبر کاکردار پرتھوی راج، شہزادہ سلیم کا کردار دلیپ کمار اور انار کلی کا کردار مدھوبالا نے ادا کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||