مغل اعظم کی نمائش دو جون سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بر صغیر کی تاریخی رومانوی داستان پر مبنی فلم ’مغل اعظم‘ کی پاکستان میں نمائش دو جون سے کی جا رہی ہے۔ مغل شہنشاہ اکبر کی بیٹے شہزادہ سلیم اور انارکلی کی محبت پر بنائی گئی یہ فلم انیس سو ساٹھ میں بھارت میں ریلیز کی گئی تھی۔ نو سال کے طویل عرصے میں مکمل ہونے والی اس فلم میں شہنشاہ اکبر کا کردار پرتھوی راج، شہزادہ سلیم کا کردار دلیپ کمار اور انارکلی کا کردار مدھو بالا نے ادا کیا تھا۔ کراچی میں جمعرات کی شام مانڈیوالا انٹرٹینمنٹ کےمینیجنگ ڈائریکٹر ندیم مانڈیوالا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جس طرح فلم ’مغل اعظم‘ ایک تاریخی اہمیت رکھتی ہے اسی طرح اس کی پاکستان میں نمائش بھی ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مغل اعظم‘ کی پاکستان میں نمائش سے مقامی سنیما گھروں کو فروغ ملے گا اور پاکستان سنیما گھر پھر سے آباد ہونگے۔ مغل اعظم کو رنگین بنانے کے پراجیکٹ کے ڈائریکٹر دیپش کا کہنا تھا کہ
انہوں نے فلم کو کلر کرنے کے بارے میں بتایا کہ بلیک اینڈ وائیٹ فلم کے تین لاکھ فریم تھے۔ ان کی ٹیم نے اس کے اچھے نتائج کے لیئے ہر فریم کو ہائی ریزولیشن پر اسکین کیا ہے۔ پاکستان سینسر بورڈ کے چیرمین ضیاالدین خٹک کا کہنا تھا کہ ’مغل اعظم‘ دونوں ممالک کے مشترکہ تاریخی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انیس سو پینسٹھ میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کے بعد ’مغل اعظم‘ پہلی فلم ہے جو پاکستان میں نمائش کے لیئے پیش کی جارہی ہے۔ ضیاالدین خٹک نے بتایا کہ پاکستان میں اسی کی دہائی تک ساڑہ چودہ سو سنیما گھر ہوا کرتے تھے جو اب کم ہوکر ڈھائی سو رہےگئے ہیں۔ سینسر بورڈ کے چئرمین نے بھارتی فلموں کی نمائش کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت سے آلو، پیاز اور گوشت منگواتے سکتے ہیں تو اچھی فلمیں منگوانے میں کیا قباحت ہے۔ |
اسی بارے میں ایشوریہ رائے کی فلم پاکستان میں26 March, 2006 | فن فنکار بولتی فلموں کی پلاٹینم جوبلی 14 March, 2006 | فن فنکار ’کوئی تجھ سا کہاں‘ کامیاب ترین01 January, 2006 | فن فنکار ۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی05 October, 2005 | فن فنکار بالی وڈ :آخری راستہ؟09 June, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||