BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باادب باملاحظہ ہوشیار، مغل ِاعظم آ رہی ہے

 دلیپ کمار
مغلِ اعظم کے ہیرو اور برصغیر کے شہرۂ آفاق اداکار دلیپ کمار
با ادب با ملاحظہ ہو شیار! فخرِ شاہانِ ہند، تاجدارِتختِ دہلی، شانِ فرماروایانِ مغلیہ، جلال الدین محمد اکبر تشریف لا رہے ہیں۔۔۔

لیکن یاد رہے کہ مغلِ اعظم کی یہ آمد تختِ دہلی پر جلوہ افروز ہونے کے لئے نہیں بلکہ لاہور کے گلستان سینما میں نمائش پذیر ہونے کے لئے ہے۔

چار بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کا قضیہ کئی ماہ سے چل رہا تھا۔ اِن میں سے دو فلمیں تو خالص بھارتی نہیں ہیں اور محض ہندوستانی کاسٹ کی وجہ سے انھیں اس زمرے میں شامل کر لیا گیا ہے تاہم دیگر دو فلمیں خالصتاً بھارتی ہیں یعنی مغلِ اعظم اور تاج محل۔

مغلِ اعظم کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے کیونکہ1960 میں اپنی اوّلین نمائش کے بعد سے یہ فلم اب تک نہیں اُتری، یعنی ہندوستان کے کسی نہ کسی شہر کے کسی نہ کسی سینما میں اس کی نمائش ہمیشہ جاری رہی ہے (یہ اعزاز مغلِ اعظم کے علاوہ صرف ایک اور بھارتی فلم کو حاصل ہوا اور وہ تھی ’مدر انڈیا‘)۔

پاکستان میں مغلِ اعظم کی دھوم پہلی بار تو 1960 ہی میں مچ گئی تھی جب پاکستانی تماشائیوں کے بڑے بڑے جتھے سرحد پار کر کے امرتسر یا کسی اور سرحدی شہر میں جاتے تھے اور فلم دیکھ کر لوٹ آتے تھے اُن دنوں اکثر لوگوں کے بارے میں سنا جاتاتھا کہ ’فلم دیکھنے امرتسر گئے ہوئے ہیں‘ اور فلم سے مراد تھی مغلِ اعظم۔

اکبرِ اعظم اور ٹھاکر مان سنگھ

دوسری بار پاکستان میں اس فلم کا شہرہ سن ستر کے عشرے میں ہوا جب امرتسر میں ٹیلی ویژن سٹیشن کھُلا۔ یہ افواہ پاکستان بھر میں زبر دست طریقے سے پھیل گئی تھی کہ امرتسر ٹی وی کا افتتاح فلم مغلِ اعظم سے کیا جائے گا، چنانچہ مقررہ تاریخ پر دور دراز کے شہروں سے لوگ لاہور آکر اپنے عزیزوں رشتہ داروں کے یہاں مقیم ہوئے تا کہ مغلِ اعظم کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔

امرتسر کا سٹیشن پکڑنے کے لئے طاقتور انٹینے چھتوں پہ لگ گئے۔ آخری چند گھنٹوں میں لاہور کا ہال روڈ بالکل جَیم ہو کر رہ گیا جہاں سارا لاہور انٹینے خریدنے کے لئے جمع ہو چکا تھا۔

افسوس کہ یہ ساری بھاگ دوڑ رائیگاں گئی کیونکہ امرتسر ٹی وی نے مغلِ اعظم نہیں دکھائی بلکہ اُس کی جگہ پاکیزہ کی نمائش کا اہتمام کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ناظرین کی اکثریت نے اسے بھی ایک نعمت کے طور پر قبول کر لیا۔

لیکن آج صورتِ حال بہت مختلف ہےاور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت لوگ اب 35 ایم ایم کے رنگین پرنٹ اور بہت بڑے سینما ہال کے محتاج نہیں رہے۔ تاریخی اہمیت کی فلم مغلِ اعظم اب اُن کے کوٹ کی جیب میں سما سکتی ہے اور وہ جب چاہیں اپنے ہی کمرے میں اس فلم کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

بھارتی فلموں کی نمائش ایک نیک شگون ہے۔ ہارون رشید

پاکستان کے معروف ترین مصنّف و ہدایتکار سیّد نور کا کہنا ہے کہ توقعات کا غبارہ اتنا پھُول چکا ہے کہ اسکی ساری ہوا ایک دھماکے سے نکل جائے گی یعنی بھارتی فلموں کے ذریعہ پیسہ کمانے کا وہ خواب چکناچور ہو جائے گا جو ہمارے سینما مالکان اور فلموں کے تقسیم کار برسوں سے دیکھ رہے تھے۔

یاد رہے کہ سینما گھروں کے مالک اور فلم ڈسٹری بیوٹر بھارتی فلموں کے حق میں واحد دلیل یہی پیش کرتے ہیں کہ اِن سے اُجڑے ہوئے سینما گھروں کی رونقیں بحال ہو جائیں گی۔

سینما مالکان کی ایسوسی ایشن کے چیئر مین ہارون رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بنیادی مسئلہ لوگوں کو ڈرائنگ روم میں سے اُٹھا کر سینما ہال تک لانا ہے۔

خواہ وہ انگریزی فلم دیکھنے کے لئے آئیں یا بھارتی فلم۔ ایک مرتبہ سینما میں فلم دیکھنے کا کلچر مضبوط ہو جائے تو پھر لوگ پاکستانی فلم دیکھنے کے لئے بھی سینما جایا کریں گے۔

سید نور کو اس نقطہ نظر سے اختلاف ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سینما کے ویران ہونے کا سبب ’پائریسی‘ ہے۔ یعنی فلموں کی غیر قانونی طور پر وڈیو تیار کر لی جاتی ہے اور لوگ سینما جانے کی بجائے گھروں پہ بیٹھ کر ڈی۔وی۔ڈی دیکھ لیتے ہیں۔

سید نور نے کہا کہ آج جِن بھارتی فلموں پر ہمارے ڈسٹری بیوٹر اتنا اِترا رہے ہیں اور جِن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ہمارے سینما گھروں کی تقدیر بدل دیں گی، وہ سب فلمیں لوگ پہلے ہی وی سی آر اور کیبل چینل پر کئی کئی بار دیکھ چُکے ہیں۔

پاکستانی سینماؤں کا مقدر صرف اچھی پاکستانی فلمیں ہی بدل سکتی ہیں

مغلِ اعظم کا رنگین ورژن بھی بہت عرصے سے وڈیو کی دُکانوں پر دستیاب ہے اور لوگوں میں اس کے لئے وہ پیاس اور اشتیاق موجود نہیں ہے جو وڈیو ٹکنالوجی سے پہلے پایا جاتا تھا۔ سید نور کے بقول اپنے سینما گھروں کو انہدام سے بچانے کے لئے بھارتی فلموں پہ تکیہ کرنا بے فائدہ ثابت ہوگا کیونکہ ہمارے سینماؤں کو ایک ہی چیز تباہی سے بچا سکتی ہے اور وہ ہے ’اچھی پاکستانی فلم‘۔

پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے طالبعلموں سے کئے گئے سوال و جواب کے مطابق طلباء کی نصف سے زیادہ تعداد ( 54 فیصد) مغلِ اعظم کو سینما گھر میں دیکھنا چاہتی ہے، اگرچہ ان نوجوانوں کی اکثریت اس فلم کو پہلے ہی چھوٹی سکرین پر دیکھ چکی ہے۔ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں نے بھارتی فلموں کو سینما گھروں میں دیکھنے کی خواہش کا اظہار زیادہ کیا ہے۔

اُدھر ’تاج محّل‘ کی بلّی بھی بالآخر اسرار کے تھیلے سے باہر نکل آئی ہے اور جمعہ 28 اپریل سے پاکستان بھر کے سینماؤں میں اس بھارتی فلم کی نمائش بھی ہو رہی ہے۔

جب یہ صورتِ حال اداکارہ اور ہدایتکارہ ریما خان کے سامنے رکھی گئی تو انھوں نے کہا کہ سچّا آرٹسٹ مقابلے سے نہیں گھبراتا اور پاکستانی فنکار بھی بھارتی فلموں کی آمد سے خوف زدہ نہیں ہیں تاہم بھارت اور پاکستان میں فلموں کا تبادلہ یکسان اور منصفانہ بنیادوں پر ہونا چاہیئے۔ ریما خان نے خواہش ظاہر کی کہ اگر اتوار کے روز پاکستان میں بھارتی فلم مغلِ اعظم کا افتتاح ہو رہا ہے تو عین اُسی دِن بھارت کے شہروں میں بھی ایک اعلیٰ و ارفع پاکستانی فلم کی نمائش شروع ہونی چاہیئے۔

ریما خان نے اس بات پہ زور دیا کہ ہماری فلمی صنعت کا دامن اچھی فلموں سے کبھی خالی نہیں رہا، انھوں نے مثالیں دے کر ثابت کیا کہ انڈسٹری کے بُرے دِنوں میں بھی جاوید شیخ، شہزاد رفیق اور خود ریما خان نے بین الاقوامی معیار کی فلمیں پروڈیوس کی ہیں اور نہ صرف پاکستانی ناظرین بلکہ بیرونِ وطن آباد ایشیائی باشندوں سے بھی داد حاصل کی ہے۔

بھارتی فلمیں صرف پاکستانی فلموں کے تبادلے میں آنی چاہیئں۔ ریما خان

ریما خان نے کہا میرا دِل یہ دیکھ کر بہت کُڑھتا ہے کہ ہندوستان کے ٹی وی پروگراموں اور فلموں کے ذریعے بھارتی کلچر تو پورے زور شور سے پاکستان میں متعارف ہو رہا ہے لیکن خود بھارت میں پاکستانی فلموں یا ٹی وی پروگراموں کے لئے کوئی گنجائش نہیں دکھائی دیتی اور بقول ریما، یہ ثقافتی عدم توازن ہر پاکستانی کے لئے باعث تشویش ہے۔

ریما خان نے اربابِ اختیار کو مشورہ دیا ہے کہ بھارتی فلموں کی درآمد صرف بارٹر سسٹم کے تحت ہونی چاہیئے جیسا کہ سن 50 کے عشرے میں ہوتا تھا جب بارہ پاکستانی فلموں کے تبادلے میں بارہ ہندوستانی فلمیں یہاں آتی تھیں۔

پاکستانی فلمیں کب تک بھارت کے سینماؤں میں جگہ پا سکیں گی اس بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں البتہ جو بات سامنے دکھائی دے رہی ہے وہ یہی ہے کہ پاکستانی سینماؤں کے دروازے بھارتی فلموں کے لئے کھول دیئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
مغل اعظم کی نمائش دو جون سے
31 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد