تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہندوستانی فلم تاج محل کے بارے میں فلم بینوں کا ابتدائی ردعمل مایوس کن رہا جبکہ پانچ روز پہلے لاہور کے ایک سنیما گھر میں لگے والی ہندوستانی فلم مغل اعظم ابھی تک کوئی رش نہیں کھینچ سکی۔ جمعہ کو تاج محل پاکستان بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز کی گئی۔ پہلے دن اور پہلے شو میں سنیما گھروں میں کوئی رش دیکھنے میں نہیں آیا۔ لاہور کے پلازہ سنیما کی انتظامیہ کے مطابق ساڑھے آٹھ سو نشستوں والے سینما ہال کی دو سو ٹکٹیں بھی فروخت نہیں ہوسکیں۔ فلم کے بعد لوگ باہر نکلے تو فلم پر رش نہ ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ایک نوجوان نے ٹکٹ مہنگے ہونے کا شکوہ کیا تو دوسرے نے کہا کہ یہ تو تاریخی فلم ہے اس کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔
پاکستان اور ہندوستان کی فلمی صنعت کے دیرینہ مطالبے اور طویل جدو جہد کے بعد حکومت پاکستان نے جن دو فلموں ’تاج محل‘ اور ’مغل اعظم‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دی ہے وہ دونوں ہی موضوع کے اعتبار سے مسلم سوشل فلمیں ہیں۔ پاکستان میں ایک حلقہ ہندوستانی فلموں کی پاکستان میں نمائش کے خلاف بھی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی حقیقی فلم بین طبقہ ان مسلم سوشل فلموں کی بجائے نئی کمرشل فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جمعہ کو پلازہ سنیما میں موجود لوگوں نے فلم میں رش نہ ہونے کے بارے میں الگ الگ باتیں کر رہے تھے ایک نوجوان پنجابی میں بولا کہ ’بات صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ یہ فلم سیکسی نہیں ہے۔ اس میں تو ذرا سا بھی سیکس نہیں ہے میرے پیسے ضائع ہوئے۔‘
اس نوجوان کو باقی لوگ چپ کرانے لگے اور ماؤں بہنوں کے حوالے دینے لگے لیکن اس نوجوان کا اصرار تھا کہ جب تک ایشوریہ رائے، رانی مکھر جی کی فلمیں نہیں آئیں گی ہندوستانی فلموں کو دیکھنے کوئی نہیں آئے گا۔ ہندوستانی فلموں کی پاکستان میں نمائش کے مخالف پروڈیوسر اور ہدائت کار سید نور نے ان فلموں کی نمائش سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ’یہ شوق بھی پورا کر دیکھیں انڈین فلمیں دیکھنے کوئی نہیں آئے گا۔‘ ابھی تک تو ان کی یہ پیشنگوئی درست ثابت ہورہی ہے۔ ہندوستانی مغل اعظم گلستان سنیما میں لگی ہے جس کا وسیع و عریض احاطہ ہر شو پر خالی دکھائی دیتا ہے جبکہ اسں کے سامنے والے سینما میٹروپول میں سید نور کی پنجابی فلم ’مجاجن‘ لگی ہے جس کا ہر شو رش اٹھا رہا ہے۔ تاج محل کے پاکستان میں تقسیم کار ادارے کے منیجر انیس نے تو فلم مغل اعظم پر یہ تنقید کی تھی کہ نوجوانوں کو مری ہوئی مدھوبالا میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن خود تاج محل کے ساتھ کیا ہوا؟ پلازہ سنیما کے انٹرول میں ایک فلم بین نے کہا کہ ’ اصل بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے ان دو اسلامی سی فلموں کو اجازت دیکر بس عوام کو ٹالا ہی ہے ان کی پاکستان میں نمائش ہونا نہ ہونا کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتی۔‘ بھارتی ہدائت کار مہیش بھٹ کا کہنا ہے پاکستان کی فلمی مارکیٹ کو نئی اور تازہ بھارتی فلموں کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں مسلم بورڈ کا دعوٰی بے بنیاد ہے: جے پال 01 August, 2005 | انڈیا تاج محل کا معاملہ سپریم کورٹ میں12 August, 2005 | انڈیا نورجہاں کی پوتی کی فلم تاج محل18 November, 2005 | فن فنکار اور اب ’مغل اعظم‘ اور ’تاج محل‘08 February, 2006 | فن فنکار سفید ہڈی کا تاج محل01 April, 2006 | انڈیا فلم تاج محل اٹھائیس اپریل سے16 April, 2006 | فن فنکار تاج محل: بھارتی وفد لاہور میں25 April, 2006 | پاکستان تاج محل کیبل پر چلانے پر پابندی26 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||