BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 April, 2006, 21:34 GMT 02:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی

تاج محل
کمرشل فلمیں ہی شاید شایقین کو سنیما گھروں تک لا سکیں
پاکستان میں ہندوستانی فلم تاج محل کے بارے میں فلم بینوں کا ابتدائی ردعمل مایوس کن رہا جبکہ پانچ روز پہلے لاہور کے ایک سنیما گھر میں لگے والی ہندوستانی فلم مغل اعظم ابھی تک کوئی رش نہیں کھینچ سکی۔

جمعہ کو تاج محل پاکستان بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز کی گئی۔ پہلے دن اور پہلے شو میں سنیما گھروں میں کوئی رش دیکھنے میں نہیں آیا۔

لاہور کے پلازہ سنیما کی انتظامیہ کے مطابق ساڑھے آٹھ سو نشستوں والے سینما ہال کی دو سو ٹکٹیں بھی فروخت نہیں ہوسکیں۔

فلم کے بعد لوگ باہر نکلے تو فلم پر رش نہ ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ایک نوجوان نے ٹکٹ مہنگے ہونے کا شکوہ کیا تو دوسرے نے کہا کہ یہ تو تاریخی فلم ہے اس کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔

پاکستانی سنیما
 بھارتی معروف ہدائت کار مہیش بھٹ کا کہنا ہے پاکستان کی فلمی مارکیٹ کو نئی اور تازہ بھارتی فلموں کی ضرورت ہے۔
مہیش بھٹ

پاکستان اور ہندوستان کی فلمی صنعت کے دیرینہ مطالبے اور طویل جدو جہد کے بعد حکومت پاکستان نے جن دو فلموں ’تاج محل‘ اور ’مغل اعظم‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دی ہے وہ دونوں ہی موضوع کے اعتبار سے مسلم سوشل فلمیں ہیں۔

پاکستان میں ایک حلقہ ہندوستانی فلموں کی پاکستان میں نمائش کے خلاف بھی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی حقیقی فلم بین طبقہ ان مسلم سوشل فلموں کی بجائے نئی کمرشل فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

جمعہ کو پلازہ سنیما میں موجود لوگوں نے فلم میں رش نہ ہونے کے بارے میں الگ الگ باتیں کر رہے تھے ایک نوجوان پنجابی میں بولا کہ ’بات صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ یہ فلم سیکسی نہیں ہے۔ اس میں تو ذرا سا بھی سیکس نہیں ہے میرے پیسے ضائع ہوئے۔‘

تاج محل اور مغل اعظم دونوں تاریخی فلمیں ہیں

اس نوجوان کو باقی لوگ چپ کرانے لگے اور ماؤں بہنوں کے حوالے دینے لگے لیکن اس نوجوان کا اصرار تھا کہ جب تک ایشوریہ رائے، رانی مکھر جی کی فلمیں نہیں آئیں گی ہندوستانی فلموں کو دیکھنے کوئی نہیں آئے گا۔

ہندوستانی فلموں کی پاکستان میں نمائش کے مخالف پروڈیوسر اور ہدائت کار سید نور نے ان فلموں کی نمائش سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ’یہ شوق بھی پورا کر دیکھیں انڈین فلمیں دیکھنے کوئی نہیں آئے گا۔‘

ابھی تک تو ان کی یہ پیشنگوئی درست ثابت ہورہی ہے۔

ہندوستانی مغل اعظم گلستان سنیما میں لگی ہے جس کا وسیع و عریض احاطہ ہر شو پر خالی دکھائی دیتا ہے جبکہ اسں کے سامنے والے سینما میٹروپول میں سید نور کی پنجابی فلم ’مجاجن‘ لگی ہے جس کا ہر شو رش اٹھا رہا ہے۔

تاج محل کے پاکستان میں تقسیم کار ادارے کے منیجر انیس نے تو فلم مغل اعظم پر یہ تنقید کی تھی کہ نوجوانوں کو مری ہوئی مدھوبالا میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن خود تاج محل کے ساتھ کیا ہوا؟

پلازہ سنیما کے انٹرول میں ایک فلم بین نے کہا کہ ’ اصل بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے ان دو اسلامی سی فلموں کو اجازت دیکر بس عوام کو ٹالا ہی ہے ان کی پاکستان میں نمائش ہونا نہ ہونا کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتی۔‘

بھارتی ہدائت کار مہیش بھٹ کا کہنا ہے پاکستان کی فلمی مارکیٹ کو نئی اور تازہ بھارتی فلموں کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
سفید ہڈی کا تاج محل
01 April, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد