BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 October, 2006, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آوارہ‘ دنیا کی مقبول ترین فلم؟

آوارہ نے مشرق و مغرب میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے
پاک و ہند کے فلم بینوں میں آج کل یہ دلچسپ خبرگشت کر رہی ہے کہ راج کپور کی کلاسیکی فلم ’آوارہ‘ کو دنیا کی مقبول ترین فلم کا درجہ ملنے والا ہے۔ خبر کا منبع ’ساؤتھ ایشین پاپولر سینما‘ کا تازہ ترین شمارہ ہے جس میں سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ کی پروفیسر دینا آئیوردانووا کا ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے۔

مضمون نگار نے ہندوستان، یورپ اور امریکہ کے فلمی محققین، فلمی ناظرین کی انجمنوں کے عہدہ داروں، فلم کلبوں کے ارکان اور ہر عمر کے عام فلمی شائقین سے ملاقاتوں کے بعد اس خیال کی پُر زور تائید کی ہے کہ ’آوارہ‘ کو عالمی سطح پر فلمی تاریخ کی مقبول ترین فلم کا اعزاز دیا جا سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے مغرب میں ماہرین نے اس طرح کے اعزاز کے لیئے ایک ہندوستانی فلم کا نام لیا ہے۔ ویسے تو بہترین، عمدہ ترین، مقبول ترین یا عظیم ترین قِسم کے اسمائے صفت ہماری معلومات میں کوئی ٹھوس اضافہ نہیں کرتے کیونکہ میرے نزدیک جو فلم عظیم ترین ہے آپ کے خیال میں شاید وہ دو کوڑی کی نہ ہو۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کے دانش ور حضرات یا سِکّہ بند ناقدین جِس فلم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں، سینما گھر میں اس کی تمام نشستیں خالی نظر آتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ناقدین نے فلم کو دو ٹکے کی کہہ کر مسترد کر دیا لیکن باکس آفس پر اُس نے کمائی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔

گویا بہترین، عمدہ ترین یا عظیم ترین کے الفاظ معروضی طور پر کوئی معنی نہیں رکھتے۔ فلم کی مقبولیت کو ناپ تول کے دیکھنا ہو تو اسکے دو ہی طریقے ہیں:
اوّل: رائے عامہ کا جائزہ لیا جائے
دوم: فلم سے ہونے والی کمائی کا جائزہ لیا جائے

جہاں تک دانش ورانہ اور ناقدانہ آراء کا تعلق ہے تو اُس لحاظ سے 1941 میں بننے والی امریکی فلم ’سِٹی زن کین‘ کو تاریخ کی عظیم ترین فلم قرار دیا گیا تھا لیکن قبولِ عام کی سند اس فلم کو کبھی حاصل نہ ہوئی۔

ایسا بھی ہوتا ہے
 دانش ور حضرات یا سِکّہ بند ناقدین جِس فلم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں، سینما گھر میں اس کی تمام نشستیں خالی نظر آتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ناقدین نے فلم کو دو ٹکے کی کہہ کر مسترد کر دیا لیکن باکس آفس پر اُس نے کمائی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔

مقبولیت کا معیار اگر رائے عامہ کے جائزے کو بنائین تو ’لارڈ آف دی رنگز‘ اب تک کی مقبول ترین فلم ہے لیکن اگر ٹکٹ کی کھڑکی پہ ہونے والی کمائی کو مدِ نظر رکھا جائے تو پھر یہ اعزاز 1997 کی فلم ’ٹائی ٹینک‘ کو حاصل ہوا ہے جس کی نمائشِ اول پر ایک ارب چوراسی کروڑ پچاس لاکھ چونتیس ہزار ایک سو اٹھاسی ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی جبکہ اسکی پروڈکشن پر صرف بائیس کروڑ نوّے لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ کچھ لوگ اسے تاریخ کی سب سے مہنگی فلم بھی سمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ آج تک کی سب سے مہنگی فلم ایلزبتھ ٹیلر اور رچرڈ برٹن کی ’قلوپطرہ‘ تھی جوکہ 1963 میں ریلیز ہوئی تھی اور اُس نسبتاً سستے زمانے میں بھی اُس پر اٹھائیس کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی لاگت آئی تھی۔

ہندوستانی فلموں کے بارے میں اس طرح کے مکمل اعداد و شمار میسر نہیں ہیں جس کا بنیادی سبب ٹیکس میں بچت کا رجحان ہے جوکہ کسی سطح پر بھی درست اعداد و شمار جمع نہیں ہونے دیتا۔

راج کپور
آوارہ کے بعد اداکار اور ہدایتکار راج کپور ہندوستان کے سب سے بڑے ’شو مین‘ بن گئے

تاہم ہمارے یہاں فلموں کی مقبولیت کو ناپنے کے کچھ اور ذرائع موجود ہیں مثلاً سلیم جاوید کی تحریر کردہ فلم شعلے نے پانچ برس تک زیرِ نمائش رہ کر مقبولیت کا جو ریکارڈ قائم کیا تھا اسے دو عشروں کے بعد ہدایتکار آدتیہ چوپڑہ کی فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے توڑا جو کہ بمبئی کے ایک ہی سنیما میں مسلسل دس برس تک چلتی رہی تھی۔

محبوب خان کی فلم ’مدر انڈیا‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1957 میں اپنی اوّلین ریلیز کے بعد سے یہ فلم آج تک ہندوستان کے کسی نہ کسی گوشے میں ضرور چل رہی ہے۔ کم و بیش یہی دعوٰی مغلِ اعظم کے بارے میں بھی کیا جاتا ہے۔

اگر اِن فلموں کو ہندوستان کی مقبول ترین فلمیں مان لیا جائے تو پھر ’آوارہ‘ کو دنیا کی سب سے مقبول فلم کا اعزاز کیسے دیا جا سکتا ہے؟ تو کیا پروفیسر دینا آئیوردانووا کی تحقیق غلط ہے؟

جی نہیں، ایسا نہیں ہے۔ ہمیں یہ نکتہ فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ پروفیسر صاحبہ کی تحقیق عالمی تناظر میں ہوئی، محض ہندوستانی سطح پر نہیں۔

اس تحقیق سے قبل بھی راج کپور کے شیدائی جانتے تھے کہ فلم آوارہ رُوس میں بے حد مقبول ہوئی تھی اور راج کپور کو وہاں ایک مقامی ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔

فلم کا اساسی گیت ’آوارہ ہوں‘ بھی روسیوں میں بے حد مقبول تھا اور جیسا کہ اشتراکی شاعر علی سردار جعفری نے راقم کو بتایا ’آوارہ ہوں‘ کے الفاظ کا روسی میں ترجمہ نہیں کیا گیا تھا اور روس کے لوگ اسے جوں کا توں گنگناتے تھے۔

شاید روس ہی میں مقبولیت کا اثر تھا کہ سوویت جمہوریاؤں کے علاوہ یہ فلم مشرقی یورپ کے ملکوں میں بھی بہت مقبول ہوئی۔ بعد میں اس فلم نے یونان ، جنوبی افریقہ اور ترکی میں بھی اپنی شہرت کے جھنڈے گاڑے۔

بتایا جاتا ہے کہ ترکی میں جِس شخص نے فلم آوارہ درآمد کی تھی وہ چند ہی ہفتوں میں کروڑ پتی بن گیا تھا۔

رومانیہ میں فلم آوارہ اور اس کے گانے اتنے مقبول ہوئے کہ نوجوان گلی گلی ’آوارہ ہوں‘ کا ورد کرتے نظر آتے اور یہ محض وقتی جوش و خروش نہیں تھا بلکہ تیس برس بعد بھی ’آوارہ ہوں‘ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اسے رومانیہ کی ایک پاپ سِنگر نے نئے انداز میں گایا۔ نرگیتا نامی مُغنیہ نے اپنی اس گائیکی کو ایسے کمال تک پہنچایا کہ اسے بھارت مدعو کیا گیا اور اُس وقت کی بھارتی وزیرِاعظم اندراگاندھی نے اس کے گیت سنے اور اسے ایک ساڑھی تحفے میں دی۔

راج کپور آوارہ کے مصنف خواجہ احمد عباس کے ساتھ
راج کپور آوارہ کے مصنف خواجہ احمد عباس کے ساتھ
1981 میں جب اندرا گاندھی رومانیہ گئیں تو نرگیتا نے وہی ساڑھی پہن کر ان کے سامنے آوارہ کے گیت پیش کئے۔ اس موقعے پر گلوکارہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کا اصل نام کچھ اور ہے اور فلم آوارہ میں نرگس کے کردار سے متاثر ہوکر انھوں نے اپنا نام نرگیتا رکھ لیا تھا۔

آخر ایسا کیا تھا فلم آوارہ میں؟ ایک جج کا بیٹا جو ایک غریب بستی کے غنڈوں میں پل بڑھ کر آوارہ بن گیا۔۔۔ اور ایک روز حالات اسے اپنے باپ کے مقابل لے آئے۔

لیکن یہ تو دنیا کی ہر تیسری کمرشل فلم میں ہوتا ہے۔ راج کپور کی آوارہ میں شاید کچھ اور بھی تھا ! خواجہ احمد عباس کے قلم سے نکلا ہوا ایک احتجاج تھا، معاشرتی بے انصافی کے خلاف، انسان کی بے حسی کے خلاف۔ شیلندر اور حسرت جے پوری کے گیتوں میں ایک پکار تھی، ایک التجا تھی جیسے شنکر جے کشن کی دھُنوں نے کئی گنا شدید کر دیا تھا۔ راج کپور کی آنکھوں میں جھلملاتی امید کی ایک کرن تھی جو ہندوستان اور پاکستان ہی نہیں ایشیا، افریقہ، اور لاطینی امریکہ کے سبھی ناداروں کو حوصلہ دِلا رہی تھی کہ حالات ایک روز ضرور بدلیں گے۔ راج کپور نے سرِ راہ دو ننگ دھڑنگ بچّوں کو گود میں اُٹھا کر محض چُلبلے پن کا مظاہرہ نہیں کیا تھا بلکہ دنیا بھر کے ناظرین کو ایک پُر اُمید پیغام بھی دیا تھا۔

اور یہ پیغام برسوں پہلے بلغاریہ کی ایک لڑکی نے بھی سُنا تھا جب اس نے فلم ’براڈ یاگا‘ دیکھی تھی۔ یہ بلغاروی نام تھا فلم آوارہ کا۔ وہ لڑکی بڑی ہو کر ایک نام ور پروفیسر بنی اور آج کل برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی ہے۔ اس کا نام پروفیسر دینا آئیوردانووا ہے اور آج کل عالمی سطح پر جاری اس کی تحقیق و تفتیش کا محور راج کپور کی فلم آوارہ ہے جسے وہ فلمی تاریخ کا مقبول ترین شاہکارقرار دیتی ہیں۔

اسی بارے میں
پاکستان کے نوجوان عکاس
29 August, 2006 | قلم اور کالم
دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ
19 June, 2006 | فن فنکار
والتھم سٹؤ کے ایک ہزار چہرے
12 August, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد