دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور پینٹر گستاو کلمٹ کی ایک پینٹنگ جوکہ دوسری جنگ عظیم کے دورن نازیوں نے چرالی تھی، اب ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوئی ہے۔ نیویارک ٹائمز اخبار کے مطابق ایک نجی معاہدے کےتحت نیویارک کی نیو گیلری نے اس آئل پینٹنگ کو تیرہ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر یا 135 ملین ڈالر میں خریدا ہے۔ یہ اڈیل بلچ بوار نامی ایک خاتون کا پورٹریٹ ہے جو ایک یہودی صنعتکار کی بیٹی تھی۔ پینٹنگ کی فروخت عدالتی حکم نامے کے بعد مکمل ہوگئی۔ عدالت نے آسٹریا کی حکومت کو حکم دیا کہ وہ 1907 میں بنائی گئی یہ پینٹنگ جنوری میں اڈیل بلچ کے ورثاء کو لوٹا دیں۔ اس سے قبل 2004 میں پکاسو کی ایک پینٹنگ ریکارڈ قیمت (104 ملین ڈالر) میں فروخت ہوئی تھی۔ اڈیل کے ورثاء کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ 1907 کے اس پورٹریٹ نے پکاسو کی پینٹنگ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ جرمن اور آسٹرین فن پاروں سے مزین نیویارک کی نیو گیلری، جوکہ بنیادی طور پر ایک میوزیم ہے، رونالڈ اییس لاڈر نے قائم کی تھی۔ اڈیل بلچ کی بھتیجی ماریہ آلٹمین جوکہ اب 90 برس کی ہیں، کہتی ہیں کہ یہ ان کے خاندان کے لیئے اہم تھا کہ ان کی آنٹی کا پورٹریٹ آرٹ گیلری میں نمائش کے لیئے رکھا جائے۔ آسٹریا میں جب نازیوں نے اقتدار سنبھالا تھا تو اڈیل بلچ کا خاندان وہاں سے بھاگ گیا تھا۔ یہ پینٹنگ گزشتہ 60 برس سے ویانا کی ایک آرٹ گیلری میں موجود تھی۔ اڈیل کے خاندان کے ساتھ ایک قانونی معرکے کے بعد چند دیگر پینٹنگز سمیت یہ پینٹنگ بھی اس سال کے آغاز میں ماریہ آلٹمین کو واپس کردی گئی۔ اڈیل بلچ کا انتقال 1925 میں ہوا تھا۔ آسٹریا کے قانون کے مطابق ویانا کا میوزیم پابند ہے کہ نازیوں کے لوٹے گئے فن پارے ان کے اصل ورثاء کے حوالے کردے۔ | اسی بارے میں شعراء کی پورٹریٹ کے کئی لاکھ پونڈ27 May, 2006 | فن فنکار ’مدر آف آل پوسٹ کارڈز‘03 March, 2006 | فن فنکار لاہور میں ایشیائی آرٹ کی نمائش23 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||