’مدر آف آل پوسٹ کارڈز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق صدر صدام حسین نے امریکہ کے خلاف اپنی لڑائی کو اُمّ المحارِب قرار دیا تھا تو انھوں نے عربی زبان کی کوئی خدمت نہیں کی تھی کیونکہ امّ الخبائث سے لیکر ابوالہول تک عربی میں ایسے سینکڑوں محاورے پہلے سے موجود ہیں بلکہ فارسی سے ہوتے ہوئے اُردو تک بھی پہنچ چکے ہیں، البتہ اُمّ المحارِب کا لفظ جب ترجمہ ہو کر انگریزی اخبارات تک پہنچا تو ہر جانب Mother of all battles کا چرچا ہو گیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے انگریزی میں اس لفظ کے کئی بھائی بھتیجے پیدا ہو گئے اور اشتہارات میں ہمیں: Mother of all movies, آج کل لاہور کی نیرنگ گیلری میں مصوری کی ایک نمائش جاری ہے جسکا عنوان ہے: Mother of all Post Cards
مصّورہ سلوت عزیز کینیڈا کی کوئنز یونیورسٹی میں آرٹ کی تعلیم دیتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اپنی نمائش کا یہ نام انھوں نے بہت سوچ سمجھ کر رکھا ہے، کیونکہ شمالی امریکہ میں آباد مسلمانوں کی جانب سے صدر بش کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ دنیائے اسلام اُن کی کاروائیوں سے نالاں ہے۔ چنانچہ بڑے سائز کے کا رڈوں پر کچھ تصاویر بنا کر سب سے پہلے صدر بش کو روانہ کی گئیں۔ شمالی امریکہ کے مختلف شہروں میں اپنی تصاویر کی نمائش کے بعد سلوت عزیز نے اہلِ لاہور کو یہ فن پارے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ تصاویر میں ایک سے زیادہ میڈیم استعمال کیئے گئے ہیں اور اکثر تصاویر کولاژ کی تکنیک پر بنی ہیں۔ نمائش میں سب سے نمایاں جگہ پر جو تصویر دکھائی دیتی ہے اُس میں پھول دار حاشیے کے اندر ایک افغانی برقعے کی شبیہہ ہے جس کے نیچے گھاس پھونس پر دو بکرے انسانوں کی طرح پچھلی ٹانگوں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
مصورہ کا کہنا ہے برقع اگر آج کے افغانستان کی علامت ہے تو یہ بکرے قرونِ وسطیٰ کی اسلامی مصوری سے آئے ہیں اور یہ اُن درباری مسخروں کی نمائندگی کرتے ہیں جو انتہائی منہ پھٹ ہوتے تھے اور شاہی جلال و جبروت کی پروا کئے بغیر بادشاہ کو کھری کھری سنا دیتے تھے۔ مصوّرہ کی تشریح کے مطابق ظّلِ الٰہی جارج بش کے دربار میں اگر ایک طرف افغانی برقع زبانِ حال سے نوحہ کُناں ہے تو دوسری جانب بھانڈ اور مسخرے بادشاہ سلامت کے جاہ و جلال کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ نمائش میں موجود آرٹ کے نقاد انور پاشا اس توضیح کو بڑے غور سے سنتے ہیں لیکن پھر یہ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں کہ بکرے کسی اسلامی آرٹ کی نمائندگی نہیں کر سکتے اور اِن تصاویر میں جو آسمان دکھایا گیا ہے وہ سو فی صد کینیڈا کا آسمان ہے، نیز اس میں جو مرغے اور دیگر پرندے دکھائے گئے ہیں وہ بھی کینیڈا کے مقامی پرندے ہیں۔ چنانچہ بکروں کے بارے میں یہ دعوٰی کرنا کہ ان کا تعلق کسی اور زمان و مکان سے ہے، بعید ازفہم ہے۔
انور پاشا کا خیال ہے کہ یہ تصاویر ایک ایسی پاکستانی خاتون کے ذہن کی تخلیق ہیں جو عرصہ دراز تک کینیڈا میں رہنے کے باعث اپنی پاکستانی اور اسلامی روایت سے کٹ چکی ہے لیکن اسکا دِل اس لا تعلقی کو قبول کرنے سے قاصر ہے چنانچہ وہ اپنی اسلامی شناخت کی تلاش میں ہاتھ پاؤں مارتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن سبھی تماشائیوں کا ردِ عمل ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ نمائش دیکھنے کے لئے ہر طرح کے لوگ آرہے ہیں: طالبِ علم، صحافی، پیشہ ور نقاد اور گھریلو خواتین۔ ہر شخص اپنے علم، تجربے، فنون شناسی اور ذاتی ذوق کے مطابق تصویروں کو پسند یا نا پسند کرتا ہے اور مصوّرہ سلوت عزیز اِن گوناں گوں تماشائیوں سے مِل کر اور اُن کے متضاد اور متصادم خیالات سُن کر محظوظ ہوتی ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں تصویر مکمل کرنے کے بعد مصوّر کا تعلق تصویر سے ختم ہو جانا چاہیئے اور تصویر مکمل طور پر دیکھنے والے کے دائرہ کار میں آجانی چاہیئے۔ | اسی بارے میں لاہور میں ایشیائی آرٹ کی نمائش23 February, 2006 | فن فنکار رنگوں کی زبان میں سلیٹوں پر نقش 13 January, 2006 | فن فنکار دو رخی تصویر میں تیسری جہت14 December, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||