BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 January, 2006, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رنگوں کی زبان میں سلیٹوں پر نقش

کمپنی عہد کی ایک پینٹنگ، نئی تعبیر کے لبادے میں
آپ شاید تختی یا سلیٹ پر لکھا ہوا وہ اوّلین سبق بُھول چکے ہوں جو پرائمری سکول میں آپکو پہلے دِن پڑھایا گیا تھا لیکن ٹنڈوالہ یار کے مصّور احمد علی منگنہار کو اپنا وہ ابتدائی سبق آج تک یاد ہے چنانچہ انھوں نے ’سلیٹ‘ کو اپنا بنیادی ذریعہ اظہار بناتے ہوئے اپنے سینکڑوں تخلیقی خیالات کو رنگوں کی زبان میں سلیٹوں پر نقش کر دیا ہے اور مصّوری کی یہ نمائش آج کل لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں جاری ہے۔

لیکن سندھ کے ایک آرٹسٹ کو اظہارِ فن کے لئے لاہور کا رُخ کیوں کرنا پڑا؟

احمد علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے کراچی میں اپنے فن پاروں کی نمائش کے لئے بہت پاپڑ بیلے لیکن وہاں کمرشل گیلریوں کا تسلط ہے جنھیں فن پاروں کے تخلیقی جوہر سے زیادہ اسکی کاروباری اہمیت کا خیال رہتا ہے۔

مصّور احمد علی منگنہار
کراچی میں کمرشل گیلریوں کا تسلط ہے

قابلِ فہم طور پر مصّور نے اس نمائش کو Primary Lessons کا نام دیا ہے۔ اسکا موضوع برٹش راج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا دورِ حکومت ہے۔ مصّور نے کمپنی عہد کی چند گم نام تصویروں کو بھی پھِر سے پینٹ کیا ہے اور یوں انھیں تعبیرِ نو کا لبادہ پہنایا ہے۔

اگرچہ اُن کی بیشتر تصاویر سلیٹوں پر بنائی گئی ہیں اور جہاں موضوع ایک سلیٹ کی حدود سے باہر نکلتا ہوا محسوس ہو وہاں دو یا تین سلیٹس استعمال کی گئی ہیں، لیکن نمائش گاہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے جِس تصویر پر نگاہ پڑتی ہے وہ بڑے سائز کے کینوس پر بنائی گئی ہے اور دو سو برس پرانے ایک فوجی قلعے کی غمازی کرتی ہے۔ البتہ عمارت پہ لہراتے ہوئے برطانوی جھنڈے کی چمک دمک ماند پڑ چکی ہے اور سرخ چلیپائی لکیروں پر سفیدی کی تہہ سی آگئی ہے۔

برطانوی دور کی شبیہہ
سلیٹ پر نقش برطانوی دور کی ایک اور شبیہہ

مصوّر نے بتایا کہ یہ برٹش راج کی ایک پینٹنگ کی تعبیرِ نو ہے جِس میں استعماری جاہ و جلال پر بدلتے زمانے کی گرد چڑھ گئی ہے اور برطانوی سلطنت پر کبھی غروب نہ ہونے والا سورج بِالآخر زوال کی زرد کرنیں بکھیر رہا ہے۔

سلیٹوں پر بنی ہوئی شبیہوں میں آپ کو برٹش راج کے کئی معروف چہرے دکھائی دیتے ہیں مثلاً لارڈ میکالے، رُڈیارڈ کپلنگ اور جارج پنجم وغیرہ۔

جیکب آباد کے مُوسِس سرجیکب کے لئے مصّور کے دِل میں ایک نرم گوشہ دکھائی دیتا ہے اور وہ عوامی بھلائی کے اُن کاموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں جو سر جان جیکب نے اپنی زندگی میں انجام دیئے اور جن کی بدولت وہ علاقے کے عوام میں ایک پیر فقیر کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، حتیٰ کہ اُن کا باقاعدہ مزار تعمیر کیا گیا ہے جس پر لوگ چادریں بھی چڑھاتے ہیں۔

مصّور کا کہنا ہے کہ دورِ استعمار میں جن انگریز افسروں نے عوام میں گُھل مل کر اُن کی فلاح و بہبود کو زندگی کا مطمح نظر بنا لیا تھا، انھیں فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔

اسی بارے میں
تصاویر، روایت اور سیاست
04 October, 2005 | فن فنکار
واٹر کلر کی طرف واپسی
06 September, 2005 | فن فنکار
پاکستان کی خواتین مصور
15 June, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد