واٹر کلر کی طرف واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینوس پر آئل پینٹنگ کی روایت مغرب میں شروع ہوئی اور مغربی استعمار کے ساتھ ساتھ دُنیا میں پھیل گئی ، لیکن تاریخ کی کھڑکی سے جھانک کر فنون کے ماضی پر نگاہ ڈالیے تو آئل سے ہزاروں برس پہلے آپکو واٹر کلر کا استعمال نظر آتا ہے۔ ہندوستان اور مشرقی بعید میں سوتی، ریشمی اور اونی کپڑے پر آبی رنگوں سے تصویر کاری کی روایت انتہائی قدیم ہے۔ لاہور کی مصوّرہ مہ رخ بٹ نے اسی قدیم روایت کو آگے بڑھانے کے لئے ریشم پر آبی رنگوں سے منظر نگاری کا مشغلہ اپنایا۔ اُن کے اس شوق کو مہمیز اس وقت ملی جب چند برس پہلے انھوں نے ثمرقند، تاشقند اور بخارا کا دورہ کیا۔ انھوں نے دیکھا کے وہاں کی قدیم مسجدوں اور مقبروں کی عمارتیں اُنھی رنگوں سے مزّین ہیں جو ہمیں مغلیہ فنِ تعمیر میں دکھائی دیتے ہیں۔ اسلامی طرزِ تعمیر، نقاشی، مصوری اور میناکاری کے دیگر نمونوں کا مطالعہ کرنے کے بعد مہ رخ اس نتیجے پی پہنچیں کہ اسلامی آرٹ میں بُنیادی حیثیت صرف دو رنگوں کی ہے یعنی فیروزی اور سنہرا۔
کپڑے کا یہ ٹکڑا آج بھی ظہورالاخلاق آرٹ گیلری میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں مہ رخ کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش ہو رہی ہے۔ مصّورہ نے انتہائی دُکھ سے یہ انکشاف کیا کہ لاہور کے قلعے میں دیواروں پر بنے نقش ونگار اب موسمی شداید اور حُکام کی لا پروائی کے باعث معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور جس نقش کو انھوں نے اپنے زمانہء طالبعلمی میں کپڑے پر منتقل کیا تھا وہ کپڑے پر تو سلامت ہے لیکن قلعے کی دیوار پر اس کی ’اصل‘ تقریباً مٹ چُکی ہے۔ آرٹ اور مصّوری کے ہر شیدائی کی طرح مہ رخ بٹ کی بھی دلی خواہش ہے کہ مغلیہ دور کے مٹتے ہوئے نقوش کو بحال کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے۔ سلک پر آبی رنگوں سے بنے ہوئے نقش و نگار اور ہندسی ڈِِیزائنوں کی اس نمائش کو ’مہ رخ کی زندہ روایت‘ کانام دیا گیا ہے اور لاہور کی ظہورالاخلاق گیلری میں یہ نمائش 11 ستمبر تک جاری رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||