BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 September, 2005, 17:34 GMT 22:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واٹر کلر کی طرف واپسی

News image
فیروزی اور سنہری: مصّورہ کے پسندیدہ رنگ
کینوس پر آئل پینٹنگ کی روایت مغرب میں شروع ہوئی اور مغربی استعمار کے ساتھ ساتھ دُنیا میں پھیل گئی ، لیکن تاریخ کی کھڑکی سے جھانک کر فنون کے ماضی پر نگاہ ڈالیے تو آئل سے ہزاروں برس پہلے آپکو واٹر کلر کا استعمال نظر آتا ہے۔ ہندوستان اور مشرقی بعید میں سوتی، ریشمی اور اونی کپڑے پر آبی رنگوں سے تصویر کاری کی روایت انتہائی قدیم ہے۔

لاہور کی مصوّرہ مہ رخ بٹ نے اسی قدیم روایت کو آگے بڑھانے کے لئے ریشم پر آبی رنگوں سے منظر نگاری کا مشغلہ اپنایا۔ اُن کے اس شوق کو مہمیز اس وقت ملی جب چند برس پہلے انھوں نے ثمرقند، تاشقند اور بخارا کا دورہ کیا۔ انھوں نے دیکھا کے وہاں کی قدیم مسجدوں اور مقبروں کی عمارتیں اُنھی رنگوں سے مزّین ہیں جو ہمیں مغلیہ فنِ تعمیر میں دکھائی دیتے ہیں۔

اسلامی طرزِ تعمیر، نقاشی، مصوری اور میناکاری کے دیگر نمونوں کا مطالعہ کرنے کے بعد مہ رخ اس نتیجے پی پہنچیں کہ اسلامی آرٹ میں بُنیادی حیثیت صرف دو رنگوں کی ہے یعنی فیروزی اور سنہرا۔

News image
واٹر کلر مُصّورہ مہ رخ بٹ
چنانچہ مصّورہ نے اپنی تخلیقات کو انھی دو رنگوں پر اُستوار کیا۔ مہ رخ نے سولہ برس پہلے نیشنل کالج آف آرٹس سے ٹیکسٹائل ڈِیزائن میں ڈِگری حاصل کی تھی۔ اپنے تھیسس کے طور پر انھوں نے قلعہ لاہور کی دیوار پر نقش ایک بڑے نمونے کو ریشمی کپڑے پر منتقل کیا تھا۔

کپڑے کا یہ ٹکڑا آج بھی ظہورالاخلاق آرٹ گیلری میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں مہ رخ کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش ہو رہی ہے۔

مصّورہ نے انتہائی دُکھ سے یہ انکشاف کیا کہ لاہور کے قلعے میں دیواروں پر بنے نقش ونگار اب موسمی شداید اور حُکام کی لا پروائی کے باعث معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور جس نقش کو انھوں نے اپنے زمانہء طالبعلمی میں کپڑے پر منتقل کیا تھا وہ کپڑے پر تو سلامت ہے لیکن قلعے کی دیوار پر اس کی ’اصل‘ تقریباً مٹ چُکی ہے۔

آرٹ اور مصّوری کے ہر شیدائی کی طرح مہ رخ بٹ کی بھی دلی خواہش ہے کہ مغلیہ دور کے مٹتے ہوئے نقوش کو بحال کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے۔

سلک پر آبی رنگوں سے بنے ہوئے نقش و نگار اور ہندسی ڈِِیزائنوں کی اس نمائش کو ’مہ رخ کی زندہ روایت‘ کانام دیا گیا ہے اور لاہور کی ظہورالاخلاق گیلری میں یہ نمائش 11 ستمبر تک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد