’۔۔۔اردو کہ بے رنگِ من است‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غالب کو اپنے فارسی کلام پر اتنا ناز تھا کہ وہ اپنی اردو شاعری کو اس کے مقابلے میں روکھی پھیکی اور بے رنگ سمجھتے تھے۔ فارسی بیں تا ببینی نقشہائے رنگ رنگ ( اگر میرے رنگا رنگ مضامین سے لطف اندوز ہونا ہے تو میرا فارسی کلام وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج پاک و ہند میں اور ہر اس ملک میں جہاں جنوبی ایشیا کے لوگ آباد ہیں غالب کا ڈنکا بج رہا ہے لیکن محض اس کے اُردو کلام کی بدولت۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد سرکاری سطح پر فارسی کی جگہ آہستہ آہستہ انگریزی قابض ہو گئی اور آج سے پچاس برس پہلے تک پاکستان میں فارسی کو جو علمی اور ادبی مقام حاصل تھا اب اسکا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔ فارسی کو بطور ایک مضمون پڑھنے والوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی چلی گئی ہے اور آج اگر کسی محفل میں حافظ یا سعدی کا شعر سنایا جائےتو لوگ منہ تکنے لگتے ہیں۔ اسی لیے محتاط لوگ فارسی کا کوئی حوالہ دینے سے گریز کرتے ہیں اور اگر شدید ضرورت آن پڑے تو ساتھ ہی اسکی تشریح ضرور کر دیتے ہیں۔ آج سے کوئی تیس پینتیس برس پہلے صوفی غلام مصطفٰے تبسم نے پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے کو غالب کے فارسی کلام سے روشناس کرانے کا بیڑا اُٹھایا تو کاروباری سطح پر کوئی ناشر شرحِ غالب چھاپنے کے لئے تیار نہ تھا۔ آخر ’ پیکجز لمٹیڈ ‘ نے اس نیک کام میں ہاتھ بٹایا اور غالب کے فارسی کلام کی شرح دو جِلدوں میں تیار ہو کر منظرِ عام پر آگئی۔ یہ کتاب اب ناپید ہے اور ناشر نے اسکی طباعتِ ثانی کو بھی ضروری نہیں سمجھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ صوفی صاحب کی شرح صِرف ایسے لوگوں کے کام آ سکتی تھی جو فارسی زبان کی مبادیات سے واقف ہوں۔ کئی مقامات پر صوفی صاحب نے مشکل الفاظ کی تشریح یہ سوچ کر نظر انداز کر دی تھی کہ یہ تو سب کو معلوم ہی ہو گا۔ اس صورتِ حال میں غالب کے فارسی کلام کی ایک ایسی شرح ضروری تھی جس تک عام آدمی کی پہنچ ہو اور ہر قابلیت کے لوگ جس سے استفادہ کر سکیں۔ غالب کے مدّاحوں کی خوش نصیبی ہے کہ خواجہ حمید یزدانی کی شرحِ کُلیاتِ غالب (فارسی) نے اس ضرورت کو بطریقِ احسن پورا کر دیا ہے۔ کتاب کی ابتداء غالب کی اُس غزل سے ہوتی ہے جو اپنے پنجابی روپ میں گلوکار غلام علی کی بدولت زبان زدِ خاص و عام ہو چکی ہے۔ عوامی دلچسپی کی خاطر اس غزل کے ہر شعر کا اردو اور پنجابی ترجمہ ساتھ ساتھ دیا گیا ہے۔ محض نمونے کی خاطر غزل کا مطلع یہاں درج کیا جا رہا ہے۔ زمن گرت نہ بود باور انتظار بیا دکھا نہ اتنا خدا را تُو انتظار آجا میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں، آجا ویکھ میرا انتظار آ جا اس سہ لسانی غزل کے مقابل غالب کی ایک بہت کم یاب پورٹریٹ بھی چھپی ہوئی ہے جو انھوں نے عالمِ جوانی میں بنوائی تھی۔ کتاب کا باقاعدہ آغاز ردیف وار غزلوں سے ہوتا ہے۔ ہر شعر کی تشریح سے قبل مشکل الفاظ کے معانی درج کیے گئے ہیں۔ ایک لفظ کے اگر دو تین معانی مستعمل ہیں تو فرہنگ میں وہ سب دے دیے گئے ہیں البتہ شعر کا ترجمہ کرتے ہوئے صرف وہ مطلب بیان کیا گیا ہے جو وہاں مراد ہے۔ ہر شعر کا مطلب آسان زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور جہاں تلمیحات وغیرہ استعمال ہوئی ہیں وہاں تاریخی پس منظر بھی درج کر دیا گیا ہے۔ تو لیجئیے ہم اس کتاب کو آنکھیں بند کر کے کہیں سے بھی کھول لیتے ہیں...... تاز دیوانم کہ سرمستِ سخن خواہد شدن میری قسمت کے ستارے کو عدم میں بڑا بلند مقام حاصل ہے چنانچہ میری شاعری کی شہرت بھی میری موت کے بعد اُس وقت ہو گی جب میں عدم میں ہوں گا۔‘ اور یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران غالب کی شاعری کا جس قدر چرچا ہوا وہ دنیا میں معدودے چند شاعروں کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر حمید یزدانی کی شرحِ کُلیاتِ غالب (فارسی) کو مکتبہ دانیال نے شائع کیا ہے اور 681 صفحات کے غیر مجلد ایڈیشن کی قیمت صرف 270 روپے ہے جو کہ کاغذ اور طباعت کے موجودہ اخراجات کے پیش نظر انتہائی کم ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||