تصاویر، روایت اور سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کی ’سٹوڈیو آرٹ گیلری‘ میں پاکستانی مصورہ نصرہ لطیف قریشی کی نمائش جاری ہے۔ اکیس ستمبر کو شروع ہونے والی اس نمائش میں مصورہ نے ایسی پینٹنگز رکھی ہیں جن میں نہ صرف روایتی طریقۂ کار استعمال کیا گیا ہے بلکہ دور حاضر کے موضوعات کا اظہار کرنے کے لیے روایتی امیجز کا سہارہ لیا گیا ہے۔ مصورہ کا کہنا ہے کہ مغل دور کے کرداروں کا استعمال وہ سیاسی اور تاریخی موضوعات پر تبصرے کے لیے کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں برطانوی راج کے وائسرائے کا ذکر ہے اور اشارہ عراق کی موجودہ صورتحال کی طرف ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ سیاست اور سامراجی نظام کے مختلف پہلو ان کے اس کام کی بنیادی سوچ ہیں۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ بیشتر تصاویر میں تو بظاہر مغل دربار کے شہزادے ایک خاتون سے عشق لڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو انہوں وضاحت کی کہ انہوں نے مرد اور عورت کے رشتے کو ایک سیاسی تعلق کی طرح ہی دکھایا ہے کیونکہ اس میں بھی ایک قسم کا سیاسی توازن اور ’پاور پلے‘ ہوتا ہے۔ وہ نو آبادیاتی نظام اور برصغیر میں برطانوی راج پر مسلسل غور کر کے یہ جانچنا چاہتی ہیں کہ ہم نے’ کیا کھویا اور کیا پایا‘۔ وہ کہتی ہیں کہ کھوئی ہوئی ان چیزوں میں ’ہماری روایات، ہمارے فن، ہمارے کپڑے اور یہاں تک ، ہماری اس زمین کے پودے شامل ہیں۔‘ ان ساری چیزوں کی جھلکیاں ان پینٹنگز میں مثجود ہیں۔ این سی اے کی ’نیو منیئچر‘ تحریک لیکن حالیہ برسوں میں این سی اے کے کئے مصوروں نے پینٹنگ کے اس پرانی روایت کو استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اس کے ذریعے اپنے فن و خیالات کا باقاعدہ اظہار کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی مصوروں کا کہنا ہے کہ اس طرح سے کام کرنے اور پرانے مغربی آرٹ کے تکنیک میں کام کرنے میں فرق یہ ہے جیسے کہ اپنی زبان میں بولنا اور کسی اجنبی زبان میں بولنے میں ہے۔ اس نوعیت کا کام کرنے والے آرٹسٹوں میں سر فہرست عائشہ خالد محمود، عمران قریشی، عثمان سعید، سائرہ وسیم اور طلحہ راٹھور ہیں۔ لیکن روایتی کاغذ یعنی وصلی اور روایتی برش بنانے کے ساتھ ساتھ بہت سے مصور اب کمپیوٹر سے بھی کام لیتے ہیں اور یوں وہ مصوری کی اس ’زبان‘ کو کمپیوٹر کے دور میں لے آئے ہیں۔ ’ایکٹس آف کمپلائینس‘
ایسے میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر آپ کی بنیادی کوشش یہ ہے کہ آپ اپنی سر زمین کے روایتی فن کو استعمال کر رہیں ہیں اور آپ کی کوشش یہ ہے کہ آپ کے فن کا تعلق آپ کی زندگی اور آپ کے زبان سے ہو تو پھر نمائش کا ٹائٹل کا بھی تو ان سے تعلق ہونا چاہیے۔ ’گرین کارڈمم‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||