BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 September, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چتر کار، آخری دموں پر

مصوری
چترکار نامی اس ادارے میں موسیقی اور رقص کی کلاسیں ہوتی تھیں
اعلٰی مصوّری کی کوئی نمائش گاہ اچانک بند ہو جائے، کلاسکی موسیقی سکھانے والے کسی ادارے کا چلنا مشکل ہو جائے یا فن، ادب اور ثقافت کے بارے میں بات چیت کرنے والے کسی مرکز پر تالا پڑ جائے تو اہلِ دِل کو یقیناً جھٹکا سا لگتا ہے۔۔۔ لیکن اگر شہر میں ایک ایسا ٹھکانہ بند ہو جائے جہاں مصوّری اور موسیقی سے لیکر ادب و فن کے مباحثوں تک ہر سرگرمی بیک وقت جاری ہو، تو اہلِ دل کا کیا حال ہوگا؟

لاہور میں اہلِ ذوق لوگوں کی ایک بڑی تعداد آج کل اسی فکر میں غلطاں دکھائی دیتی ہے کہ ادب و فن کا ایک مستند مرکز ’چترکار‘ اِس وقت زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

کلاس
ویراں ہے میکدہ۔۔۔ مصوّری کی کلاس خالی پڑی ہے

اس ادارے کی داغ بیل آج سے پانچ برس پہلے پڑی تھی اور اس کے مقاصد میں فنونِ لطیفہ کو فروغ دینا اور ایسے نوجوان فنکاروں کی مددکرنا تھا جو مالی ذرائع کی کمی کے باعث اپنے فن کو نکھارنے سنوارنے کی صلاحیتوں سے محروم تھے۔

چھ ماہ تک شاہد مرزا نے اس ادارے کو اپنے ذاتی خرچ سے چلایا جس کے بعد بابر علی فاؤنڈیشن نے اُن کی مدد کی اور مزید ایک برس تک ادارہ نوجوان فنکاروں کی مدد میں مصروف رہا۔

چترکار نامی اس ادارے میں موسیقی اور رقص کی کلاسیں ہوتی تھیں، مصوّری سکھائی جاتی تھی اور فن و ثقافت کی تاریخ پر لیکچر ہوتے تھے۔

باہر سے آنے والے ماہرینِ رقص و موسیقی کو بھی ادارے میں مدعو کیا جاتا تھا اور ثقافت کے موضوع پر تخصیص رکھنے والے بیرونی سکالرز بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً آتے رہتے تھے۔

طبلہ
اُستاد واجد علی کی کلاس میں طلباء کی جگہ صرف طبلے رہ گئے ہیں

ادارے کی افادیت کے پیش نظر جرمنی کی ’ہینرخ بال فاؤنڈیشن‘ نے اسکا ہاتھ تھاما اور دو برسوں کے لئے اسے کلاسیکی فنون اور فنکاروں کے تحفظ کے لیے مخصوص ایک فنڈ جاری کر دیا جس سے ادارے کی حالت خاصی سنبھل گئی اور فنکارانہ سرگرمیوں کا دائرہ بھی وسیع تر ہو گیا۔

تحفظِ فن کا فنڈ ختم ہو جانے کے بعد ’ آرٹ برائے امن ‘ کا ایک منصوبہ شروع کر کے اسکے توسط سے چتر کار کو کچھ رقم کی فراہمی کا انتظام کیا گیا جو کہ مزید ایک سال تک جاری رہا۔

اس دوران میں چتر کار نے تاریخِ فنون، رقص، گلوکاری ، سازوں کی موسیقی اور قدیم و جدید مصوّری کے موضوع پر 116 اجتماعات منعقد کیے جن سے بہت سے نوجوانوں نے استفادہ کیا۔

شاہد مرزا
چھ ماہ تک شاہد مرزا نے اس ادارے کو اپنے ذاتی خرچ سے چلایا

چتر کار کا ادارہ گلبرگ کی ایک کوٹھی میں قائم ہے اور صرف عمارت کا کرایہ پچاس ہزار روپے ہو چُکا ہے۔ رقص و موسیقی سیکھنے والوں کی اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے جو کہ فیس ادا نہیں کر سکتی ۔

ادارے کے ناظمِ اعلیٰ شاہد مرزا کا کہنا ہے کہ ’ہمارا خیال تھا ہم امیر طالب علموں کی فیسوں سے ادارے کا خرچہ چلا لیں گے اور ساتھ ساتھ غریب طالب علموں کا بھی بھلا ہوتا رہے گا لیکن عملاً یوں ہو رہا ہے کہ ہمارے پاس صرف غرباء ہی آ رہے ہیں۔ امراء یہاں آنے کی بجائے ڈرائیور بھیج کر استاد کو اپنےگھر ہی بُلا لیتے ہیں جہاں ائر کنڈیشنڈ کمرے میں چائے پانی سے اُستاد کی تواضع بھی کی جاتی ہے اور رقص اور موسیقی سکھانے کی منہ مانگی فیس بھی ادا کی جاتی ہے‘۔

ادب و فنون
 شاہد مرزا کا کہنا ہے کہ جب تک ادب آرٹ اور فنون کے بارے میں ہمارا قومی تعصب دُور نہیں ہوتا چترکار جیسے ادارے ملک میں کہیں بھی پنپ نہیں سکتے۔

ادارے میں مصوّری کے ایک معلّم سیعد اصغر کا کہنا ہے کہ حکومت بظاہر تو آزاد خیال اور آرٹ دوست دکھائی دیتی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کا ایک خوشگوار تاثر اُبھارنے کےلئے بڑے پیمانے پر انتہائی مہنگا پروپیگینڈا بھی کر رہی ہے لیکن خود اندرونِ ملک چتر کار جیسے اِداروں کو محض زندہ رہنے کے لیے بھی غیر ملکی مخیّر ایجنسیوں کی راہ دیکھنی پڑتی ہے۔

شاہد مرزا کا کہنا ہے کہ جب تک ادب آرٹ اور فنون کے بارے میں ہمارا قومی تعصب دُور نہیں ہوتا چترکار جیسے ادارے ملک میں کہیں بھی پنپ نہیں سکتے۔

چتر کار کی ناظمہ رابعہ نادر
فن و ثقافت کی خدمت کے لیے کوئی محل کرائے پر لینے کی ضرورت نہیں

ادارے کی ڈائریکٹر رابعہ نادر نے خیال ظاہر کیا کہ اس طرح کے اداروں کو غیر ملکی تنظیموں کا سہارا قبول ہی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ عطیے کے ہر ڈالر کے پیچھے مفادات اور مطالبات کا طومار چھپا ہوتا ہے۔

رابعہ نادر کا خیال ہے کہ فن و ثقافت کی خدمت کے لیے کوئی شاندار محل کرائے پر لینے کی ضرورت نہیں بلکہ سادہ سی عمارت میں مقامی ذرائع کے بل بوتے پر ایک مشنری جذبے کے ساتھ ایسا کام شروع کیا جا سکتا ہے اور یہی وہ طریق کار ہے جس پر چل کر ہم چترکار جیسے کارآمد اداروں کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد