لوک فنکار مرید ملک بازیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ سے تعلق رکھنے والے لوک فنکار مرید ملک بائیس دن کی گمشدگی کے بعد واپس اپنے گھر بچل میانی سکھر پہنچ گئے ہیں- وہ گذشتہ بیس روز سے لاپتہ تھے- شائستہ عالمانی پیار کہانی کے گیت گانے والے فنکار کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے جبکہ پولیس اس واقع کو ڈرامہ قرار دے رہی تھی۔ گھر پہنچنے کے بعد مرید ملک سے جب صحافیوں نے ملاقات کی تو ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور وہ خاصے سہمے ہوئے تھے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک درگاہ پر گانے کے لئے وہ ڈھولک نواز کو لینے کے لئے سکھر شہر جا رہےتھے کہ دریائے سندھ کی سکھر پل سے انہیں ایک کار میں سوار پولیس وردی میں بعض افراد نے روکا اور ایک پروگرام میں گانے کے لئے بات چیت کرنے کے بہانے گاڑی میں بٹھایا اور اغوا کر لیا۔ اپنی اغوا کی کہانی بتاتے ہوئے لوک فنکار نے کہا کہ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد کار سے اتار کر کئی میل تک پیدل سفر کرایا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تین دن تک ایک جنگل میں ایک جھونپڑی میں رکھا گیا تھا جہاں ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ مرید کے مطابق گذشتہ روز چھ ڈاکو ان کے پاس آئے اور کہا کہ تم سردار کے آدمی ہو اس لئے رہا کر رہے ہیں جس کے بعد اسے صبح سویرے گھوٹکی کے قریب بچا بند کے پاس رہا کیا گیا اور وہ گھر پہنچ گئے۔ فنکار مرید کے اغوا اور بازیابی کی کہانی معمہ بنی ہوئی ہے کیونکہ ان کے والد صالح ملک ایک ہفتے تک سکھر میں بیٹے کی بازیابی اور مقدمہ درج کرنے کے لئے مظاہرہ کرتے رہے لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے یہ نہ بتا سکی کہ مرید ملک کو اغوا نہیں کیا گیا ہے تو وہ کہاں ہے اور اب جب وہ رہا ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں تب بھی ان کی پر اسرار گمشدگی کا بھید نہیں کھول سکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||