ممبئی: پاکستانی فن پاروں کی نمائش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ آج کل فنونِ لطیفہ بالخصوص فنِ مصوری کے دلدادہ افراد کے لیے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس گیلری میں پاکستان کے اکیاون مصوروں کے فن پاروں کی نمائش جاری ہے۔ ان مصوروں کا تعلق کراچی اور لاہور سے ہے۔بھارت میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی مصوروں کی تخلیقات کسی نمائش میں رکھی گئی ہیں۔ نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سرن جوشی ان تصاویر سے بہت متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کے فنکاروں میں تخلیق کا جذبہ اور احساسات کی عکاسی کا فن اچھوتا ہے۔ سرن جوشی کو یقین ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مصوروں کے درمیان فن کا تبادلہ جاری رہے گا اور اس سے نئی راہیں روشن ہوں گی۔ بھارتی وزیرِاطلاعات و نشریات ایس جے پال ریڈی اور بھارتی وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے اس نمائش کے انعقاد پر کہا ہے کہ عوام سے عوام کے ربط کی کڑی کے طور پر یہ ایک خوش آئند قدم ہے اور توقع ہے کہ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان موجود خلیج کم ہوگی۔ نمائش میں عدنان مدنی، عالیہ سلمان، احمد خان، احمد پرویز، اکرم دوست بلوچ، انور جلال شمزہ، علی امام، اللہ بخش، بشیر مرزا اور محبوب شاہ کی پینٹنگز کے علاوہ عبدالجبار گل کے فن نقاشی کے نمونے بھی رکھے گئے ہیں۔ زیادہ تر پاکستانی مصوروں کی تخلیقات کا مرکزی خیال عورت کے نازک احساسات، اسے سماج میں درپیش مسائل اور مہذب سماج میں عورت کا مقام ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||