BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں ایشیائی آرٹ کی نمائش

آرائشِ زلفِ دراز: جدید چوپ تراشی (وُڈ کٹ) کا چینی نمونہ
مصوری کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لوگ عام طور پر فرانس یا اٹلی جاتے ہیں۔ کچھ محققین جدید آرٹ کی گتھیاں سلجھانے کے لئے امریکہ جاتے ہوئے بھی دیکھے گئے ہیں، لیکن لاہور کی صبا حسین نے فنِ مصوری کی اعلٰی تربیت کے لئے جاپان جانے کا فیصلہ کیا۔

وجہ اس فیصلے کی یہ تھی کہ وہ جاپانیوں کے فنِ پرنٹ سازی سے بہت متاثر تھیں اور نیشنل کالج آف آرٹس میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ جاپانیوں کی قدیم چَوپ تراشی (وُڈ کٹ) کا گہرا مطالعہ کر چکی تھیں۔ اِس قدیم فن میں لکڑی کو اس کے ریشوں کے رُخ پر انتہائی عمدگی اور صفائی سے تراش کر نقش و نگار بنائے جاتے ہیں اور پھر لکڑی کے اس بلاک پر روشنائی لگا کر چھاپا کاغذ یا کپڑے پر منتقل کیا جاتا ہے۔

صبا حسین کو نہ تو حکومتِ جاپان نے مدعو کیا تھا اور نہ ہی پاکستانی حکومت نے کوئی وظیفہ یا مالی امداد دی تھی۔ جاپان جا کر پرنٹ سازی کے آرٹ کی تحقیق کرنا اُن کا ذاتی شوق تھا اور یہی جنون انھیں کشان کشاں جاپان کی کیوٹوسِٹی یونیورسٹی تک لے گیا:

’شوق ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا‘

سٹل لائف: تھائی لینڈ کے پرنٹ میکر تھاورن کو ادومو وت کا لتھوگراف
جاپان پہنچ جانا تو کوئی بڑی بات نہ تھی لیکن چار برس تک دنیا کے سب سے مہنگے ملک میں تعلیمی اخراجات برداشت کرنا یقیناً ایک چیلنج تھا۔ صبا حسین نے فارغ وقت میں جاپانیوں کو انگریزی سِکھانے کا مشغلہ اپنایا اور یوں اپنی پڑھائی لکھائی کا خرچ پورا کرتی رہیں۔ جاپان میں حصولِ تعلیم کے دوران انھیں چین، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے پرنٹ ساز مصوروں سے ملاقاتوں کا موقع بھی ملتا رہا پاکستان واپسی پر صبا حسین یہ سوچتی رہیں کہ ہمارے ملک میں پرنٹ سازی کے فن سے واقفیت اتنی کم کیوں ہے۔۔۔

اور اسکا سبب انھیں یہ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں فنِ مصوری سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو یورپ کے بہترین فن پارے دیکھنے کا موقع تو ملتا رہتا ہے کیونکہ آرٹ کی درسی کتابوں سے لیکر ہماری نمائش گاہوں تک ہر جگہ یورپ کا آرٹ چھایا ہوا ہے، لیکن خود ہمارے ہمسایہ ممالک میں کیا ہو رہا ہے؟ اسکی ہمیں بہت کم خبر ہے۔ چنانچہ صبا حسین نے چین، جاپان ، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے پرنٹ سازوں سے ذاتی ملاقاتیں کیں اور انھیں قائل کیا کہ ان کے وقیع کام کی نمائش پاکستان جیسے ملک میں اشد ضروری ہے۔

آخری یاد: چینی مصور ژوجی رونگ کا لتھوگراف
آج کل اِن چاروں ممالک کے پرنٹس کی نمائش لاہور کی الحمرا آرٹس کونسل میں جاری ہے جسے دیکھنے کے لئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہر روز نمائش گاہ میں آتی ہے۔ ان لوگوں میں آرٹس کے عام شائقین اور کمرشل آرٹسٹوں کے علاوہ ہائی سکول اور کالج کے بہت سے طلباء بھی ہیں جو آرٹس کو بطور مضمون پڑھ رہے ہیں اور جنھیں کل کلاں کمیونیکیشن کے کسی ادارے یا ایڈورٹائزنگ کی صنعت سے وابستہ ہونا ہے۔
احمد علی کی پینٹنگسلیٹوں پر نقش
مصّور احمد علی منگنہار اپنا پہلا سبق نہیں بھولے
’سب سے کرارہ کارا‘
کراچی فلم فیسٹیول میں ڈیڑھ سو فلمیں
تصویر کا تیسرا رخ
دو رخی تصویر میں تیسری جہت
عثمان پیرزادہفنڈنگ کی کمی ہے
پاکستانی تھیٹر میں سرمایہ کاری کی ضرورت
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد