دو رخی تصویر میں تیسری جہت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فنِ تعمیر اور فنِ مصّوری کو یکجا کرنے کی کوششیں اگرچہ زمانۂ قدیم سے ہوتی آئی ہیں لیکن لندن میں مقیم پاکستانی نژاد مصّور اور ڈیزائنر فاران لودھی نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے بَل بوتے پر مختلف فنون کو مدغم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لندن، برلن، ایڈنبرا اور زیورخ کے ساتھ ساتھ انھوں نے لاہور کو بھی ایک مقام نمائش کے طور پر چنا ہے۔ جب اِس کی وجہ دریافت کی گئی تو فاران لودھی کا کہنا تھا کہ لاہور اُن کی جائے پیدائش ہے اور مغربی دنیا کی چکاچوند میں وہ اپنے آبائی شہر کو فراموش نہیں کر سکتے۔ لاہور کی الحمرا آرٹ کونسل میں جاری یہ نمائش آرٹ کی ایک عام نمائش سے کتنی مختلف ہے اس کا اندازہ اُن تصاویر سے ہو جائے گا جو لمبائی اور چوڑائی ہی نہیں بلکہ گہرائی بھی رکھتی ہیں۔
یہ تیسری جہت یا تھرڈ ڈائمینشن اِن تصاویر میں کہاں سے آئی؟ تقریب میں موجود معروف آرکیٹیکٹ آمنہ علی کا کہنا تھا کہ ایک ماہرِ تعمیرات کے لیے تیسری جہت میں سوچنا اور اسے دو سطحی میڈیم میں منتقل کرنا آسان ہوتا ہے۔ اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ماہرِ فنِ تعمیر علی قاضی نے کہا کہ فاران لودھی کا فن عام مصّوروں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ انھوں نے آرٹ کی مختلف جہتوں کو یکجا کر دیا ہے چنانچہ آپ اس نمائش میں نہ صرف تصویریں دیکھتے ہیں بلکہ غسل خانے کا سازوسامان یعنی باتھ ٹب وغیرہ بھی آپ کو نظر آتے ہیں جو کہ بقول فاران لودھی انسانی زندگی کے جدید لوازمات ہیں اور انسان کا اِن سے تعلق انتہائی بے تکلفانہ نوعیت کا ہے۔ فاران لودھی نے 1980 کی دہائی میں لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں تعلیم حاصل کی تھی جِس کے بعد وہ ڈیزائن کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے اور سینٹ مارٹن کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔
ڈیزائن اور تعمیرات کے شعبوں میں اُن کے کام کی نمائش گزشتہ 18 برس سے دُنیا کے جِن شہروں میں ہو رہی ہے اُن میں لندن، پیرس، زیورخ، ایڈنبرا اور برلن کے علاوہ گلاسگو اور نیو یارک بھی شامل ہیں۔ لاہور میں اپنی نمائش کے موقعے پر فاران لودھی نے 6 منٹ کی ایک مختصر فلم بھی دکھائی جسکا عنوان تھا ’7 / 7 ‘۔ یہ فلم لندن میں ہونے والے بم دھماکوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی البتہ اس فلم میں تباہی، بربادی یا بھگدڑ کا کوئی منظر نہیں ہے بلکہ لندن انڈرگراؤنڈ کے انتہائی پُر سکون اور خوشگوار مناظر دکھائے گئے ہیں اور پس منظر میں نیّرہ نور کا مدھر گیت چل رہا ہے ’ کبھی ہم خوبصورت تھے‘۔ فلم کے عنوان اور اِس کے مندرجات کا یہی تضاد فلم کی اصل خوبصورتی ہے اور فلم ساز کے اِس نقطۂ نظر کی غمازی کرتا ہے کہ زیرِ زمین ریلوے کا حُسن و جمال اُسی طرح قائم رہنا چاہیے جیسا کہ ماضی میں تھا۔ پس منظر میں چلنے والے گانے کے بول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بطور انسان ہم قدرت کی ایک شاہکار تخلیق ہیں اور انسانی فکر و عمل کا حُسن و جمال ہمیشہ قائم و دائم رہنا چاہیے۔ | اسی بارے میں تصاویر، روایت اور سیاست04 October, 2005 | فن فنکار واٹر کلر کی طرف واپسی06 September, 2005 | فن فنکار پاکستان کی خواتین مصور15 June, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||