BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ناظرین کم نہیں، فنڈنگ کم ہے‘

عثمان پیرزادہ
’جو انڈسٹری بدشکل فلمیں بناتی تھی وہ خود ہی اپنی موت مر چکی ہے‘
پاکستانی تھیٹر کی دنیا کی نامور شخصیت عثمان پیرزادہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھیٹر کے شائقین کے لیے تمام سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود انہیں نئی نسل سے پوری امید ہے کہ وہ پاکستانی تھیٹر کو ایک نئے مقام تک پہنچائيں گے۔

عثمان پیر زادہ ان دنوں نیشنل اسکول آف ڈرامہ کے آٹھویں اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے ہيں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں مسٹر پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی طرح پاکستان میں این ایس ڈی یعنی نیشنل اسکول آف ڈرامہ جیسا کوئی ادارہ نہیں تھا جہاں تھیٹر کے لیے خصوصی تربیت دی جا سکے اس لیے تھیٹر شائقین نے صرف ایک دوسرے کو دیکھ کر اور ایک دوسرے کے ہنر سے سے ہی تربیت حاصل کی ہے۔

 ترقی پسند تحریک لاہور کی وراثت رہی ہے اور اس مہم کو جاری رکھنے کی کوشش آج بھی جاری ہے
عثمان پیرزادہ

تاہم ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ گزشتہ برسوں ميں پاکستان میں تھیٹر کے لیے کافی بیداری دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اب پاکستان کے کئی کالجوں نے’ لبرل آرٹس‘ یعنی ڈرامہ ، فلم اور ٹیلیویژن جیسے فنون کی تربیت دینا شروع کر دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں حکومتی ادارے پی ٹی وی کے علاوہ نہ تو کوئی ٹی وی اکادمی تھی اور نہ ہی کوئی فلم اسکول تھا لیکن اب نیشنل اسکول آف آرٹ میں فلم اور ٹیلیویژن کی تعلیم حاصل کرنے کا ایک خصوصی ادارہ ہے اور پاکستان کے فن کی دنیا کا مستقبل انہی طلبہ کے ہاتھوں میں ہے جو اس وقت وہاں تربیت حاصل کر رہے ہيں۔

عثمان پیر زادہ کا کہنا تھا کہ ترقی پسند تحریک لاہور کی وراثت رہی ہے اور اس مہم کو جاری رکھنے کی کوشش آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی منٹو اور عصمت چغتائی کے ڈراموں کو اتنی ہی مقبولیت حاصل ہے جتنی پہلے تھی۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ’جو انڈسٹری بدشکل فلمیں بناتی تھی وہ خود ہی اپنی موت مر چکی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام امید يں ختم ہو چکیں ہیں‘۔

مسٹر پیرزادہ کی امیدیں نئی نسل سے وابستہ ہیں جو’ فلم میکنگ‘ کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ تین چار برسوں میں اس کے نتائج دکھائی دینا شروع ہو جائيں گے۔

پاکستان میں ڈراموں کی مقبولیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ایک وقت میں چودہ پندرہ کمرشل ڈرامے ضرور چلتے رہتے ہیں لیکن یہ دور مارکیٹنگ کا ہے جس کے لیے کافی تعداد میں رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تھیٹر ناظرین کی کمی بالکل نہیں ہے کمی ہے تو صرف فنڈنگ کی۔

اسی بارے میں
شیکسپیئر اِن کابل
10 September, 2005 | فن فنکار
’ویراں ہے میکدہ‘
22 April, 2005 | فن فنکار
پنج پانی تھیٹر میلہ
07 March, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد