لوک تھیٹر، کمرشل تھیٹر یا جسے میڈیا بامقصد اور معیاری تھیٹر کہتا ہے؟
صدیوں پرانے بھانڈ، نقلیے، راس دھاریئے، سانگی، قصہ گو اور واریں گانے والے کون تھے؟ وہ تاریخ دان تھے یا فنکار؟ ان کا طریقہ کار کیا ہوتا تھا؟ کیا شہری تھیٹر انہیں کھا گیا یا ان کے زوال کی اصل ذمہ داری ٹی وی کے سر پر ہے؟
کمرشل تھیٹر کیا ہے اور مستقل چھاپوں کی زد میں کیوں رہتا ہے؟ کامیڈینز کا کیا مؤقف ہے؟ رقاص کیا کہتی ہیں؟ فحاشی کی کیا تعریف ہے؟ صرف جسم کی نمائش غلط ہے یا زبان کی فحاشی بھی؟
بامقصد تھیٹر کیا ہے؟ آخر پاکستان کو تھیٹر اور سنگیت کا پہلا سکول کھولنے میں اٹھاون برس کیوں لگے؟ یہ اور ایسے کئی اور سوالوں کا جواب جاننے کے لیے ہر پیر کو ان صفحات پر اور اردو سروس کی نشریات میں آئیے۔