پاکستان کے نوجوان عکاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی نیرنگ گیلری میں جدید فوٹو گرافی کی ایک نمائش شروع ہوئی ہے جِس میں اٹھارہ نوجوان پاکستانی فوٹوگرافروں کی تصاویر پیش کی گئی ہیں۔ اِن تصویروں میں انسانی چہروں سے لے کر فطری مناظر اور ساکت اشیاء تک مختلف مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔ گیلری کے روح و رواں نیّر علی دادا کا کہنا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں کام کی اُمنگ اور آگے بڑھنے کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن کی مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اِس تصویری نمائش کا مقصد نوجوانوں کے کام کو منظرِ عام پر لانا ہے تاکہ اُن کے فن کی مناسب تحسین ہوسکے۔
نمائش میں حصّہ لینے والے نوجوانوں میں سے کچھ تو طالبِ علم ہیں اور کچھ مختلف پیشوں سے وابستہ ہیں۔ مثلاً عثمان احمد پیشے کے لحاظ سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں لیکن چار ماہ پہلے جب انھوں نے کیمرہ خریدا تو اُن پر انکشاف ہوا کہ وہ تو ایک بہت اچھے فوٹوگرافر بن سکتے ہیں چنانچہ انھوں نے انسانی چہروں کو اپنے کیمرے کی گرفت میں لینا شروع کر دیا۔
نمائش میں شامل اُن کی تصاویر میں آپ کو دلچسپ انسانی چہروں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے چہرے، عمارتوں کی پیشانیاں اور درختوں کے جسم بھی دکھائی دیں گے۔ عثمان کا کہنا ہے کہ ہر انسانی چہرے پر ایک داستان رقم ہوتی ہے اور آنکھیں اس قصّے کو بیان کرتی ہیں، لیکن اس کہانی تک رسائی ہر آدمی کا کام نہیں۔
شاید ایک عام آدمی اور ایک اچھے فوٹوگرافر میں یہی فرق ہے کہ موخرالذکر اُس کہانی کو نہ صرف پڑھ لیتا ہے، بلکہ دوسروں تک بھی پہنچا دیتا ہے۔ نوجوان خاتون سروش انور نے بھی حال ہی میں یہ شوق اپنایا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کرتے ہوئے انھوں نے شوقیہ جو تصاویر اتاری تھیں وہ پرنٹ ہوکر آئیں تو انھیں بے حد سراہا گیا اور خاتوں کو احساس دلایا گیا کہ اُن کے اندر ایک تصویر کار کی روح کارفرما ہے۔ چنانچہ سروش انور نے مناظرِ فطرت کی تصویر کاری کو ایک مستقل مشغلے کے طور پر اپنا لیا ہے۔
نمائش میں موجود آرٹ کے ایک ناقد کا کہنا تھا کہ جدید فوٹوگرافی محض حقیقت کو جوں کا توں کیمرے میں قید کرلینے کا نام نہیں ہے بلکہ آج کا تصویر کار خارجی حقیقت کو اپنے مخصوص نقطہء نظر سے پیش کرتا ہے۔ ناقد نے نمائش میں آویزاں ایک تصویر کی جانب اشارہ کیا جس میں شہری ٹریفک کا منظر دکھایا گیا تھا لیکن یہ تصویر کسی اخبار میں چھپنے والی صحافتی تصویر سے بےحد مختلف تھی کیونکہ اس میں فوٹوگرافر رنگ و نور سے کھیلتا ہوا نظر آتا ہے اور سڑک کسی پینٹر کے برش سے لگایا ہوا بڑا سا سٹروک معلوم ہوتی ہے جبکہ برقی قمقمے چھوٹے برش سے لگائے ہوئے نقطے!
نمائش میں کُل اٹھارہ فنکاروں کی تصاویر پیش کی گئی ہیں۔ نیّر علی دادا نے بتایا کہ فوٹوگرافی اب محض مَردوں کا مشغلہ نہیں رہا بلکہ بڑی تعداد میں خواتین بھی اُس میں دلچسپی لے رہی ہیں اور اس نمائش میں بھی خواتین فوٹوگرافروں کی بھرپور نمائندگی ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ19 June, 2006 | فن فنکار مغرب میں دوبارہ اسلامی فنون کا فروغ22 July, 2006 | فن فنکار والتھم سٹؤ کے ایک ہزار چہرے12 August, 2006 | صفحۂ اول جلد آرہا ہے: تھری - ڈی ٹیلی ویژن29 August, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||