BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغرب میں دوبارہ اسلامی فنون کا فروغ
جمیل گیلری میں چار سو کے قریب شہ پارے رکھے جائیں گے
برطانیہ کے قومی عجائب گھروں وکٹوریہ اور البرٹ لندن نے پھر سےاسلامی فنون کو نمائش کے لیۓ رکھ دیا۔

گیلری کی اس نمائش کے معاوضے کا کچھ حصہ ایک امیر سعودی تاجر جمیل دے رہے ہیں۔1852 میں وکٹوریہ اور البرٹ عجائب گھر کو کھولنے کا مقصد یہ تھا کہ برطانیہ میں کمرشل ڈیزائن کے معیار کو بہتر کیا جائے۔

ابتدا ہی سے برطانیہ کی نظریں اسلام پر تھیں۔وکٹورین دور میں سمجھ لیا گیا کہ وسطی مشرقی روایات خاص طور پر قالین ، زیورات اور برتن سازی کے شعبوں میں سیکھنے کے لیۓ بہت کچھ ہے۔ اس عرصے میں دس ہزار سے زیادہ اسلامی فن پارے ان عجائب گھروں میں نمائش کے لیۓ رکھے جا چکے ہیں۔

اب اسلامی فن پاروں کو بہتر طریقے سے نمائش کے لیۓ رکھا گیا ہے اور اس کے لیۓ سعودی تاجر جمیل کے دئیے گئے 5.4 ملین پاؤنڈ کا بھی حصہ ہے۔ خاندانِ جمیل سعودی عرب کے مشہور تاجر ہیں جو مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور جاپانی کار بنانیوالی کمپنی ٹویوٹا سے ان کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔

جمیل گیلری میں چار سو کے قریب شہ پارے رکھے جائیں گے جس میں مصوری، گلدان اور کپڑوں کے ڈیزائن شامل ہیں۔ایک بڑی اور اونچی چھت والی اس گیلری میں مصری مسجد( 1470-1480) کے منبر سے لے کر ایک صدی بعد کا ترکی کا ٹائل کی سطح والا میز دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ میز گیلری کے نئے انچارج ٹِم سٹینلے کا پسندیدہ میز ہے
گیلری کے نئے انچارج ٹم سٹینلے نے تسلیم کیا ہے کہ ’اسلامی فن کی اصطلاح فتنہ ساز ہو سکتی ہے۔جذباتیت سے ہٹ کر دیکھیں تو ہمیں واقعی کہیں عیسائی فن کی اصطلاح تو نظر نہیں آتی۔بہت سارے لوگ امید کریں گے کہ جمیل گیلری کے فن پارے اسلامی مذہب کے فن پاروں کے طور پر پیش کئے جائیں۔

درحقیقت اسلام دوسرے مذاہب سے مختلف ہے کیونکہ آنحضور نے اس میں سیاسی نظام کو متعارف کرایا۔اور پیش روؤں نے مغرب میں ہسپانیہ اور مراکش جبکہ مشرق میں سندھ کے ساحلوں تک اسلامی طاقت کو بڑھایا۔چناچہ یہ گیلری اس اسلامی سلطنت اور اس کی جیتی ہوئی ریاستوں کے فن کی نمائندگی کرتی ہے نہ کہ اسلام کی۔‘

نمائش کے مرکز میں سولہویں صدی کا ایک قالین نمائش کے لیۓ رکھا گیا ہے جس کے بارے میں گمان غالب ہے کے یہ اردابل کے مزار کے لئے شاہ طمش کو دیا گیا تھا۔قالین اتنا نازک ہے کہ اس کے رنگوں کو محفوظ رکھنے کے لیۓ اسے وقفوں سے نمائش کے لئے رکھا جاتا ہے-

یہ قالین گیلری کا نہائیت ہی خوبصورت حصہ ہے اور ہر تیس منٹوں کے بعد جب اس پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو یہ بہت ہی دلفریب معلوم ہوتا ہے۔ اس قالین کا ذکر مسلمانوں کے کیلنڈر میں بھی ہے۔

گیلری کے چھوٹےفن پاروں میں چودھویں صدی کے مالاگا کا پیالہ اور ہزار سال پہلے کے مصری فاطمید خلیفہ کا شیشے کا جگ شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد