| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں پاکستانی زیورات کی نمائش
لندن میں پاکستانی سفارتخانے میں پاکستانی زیورات کی ایک نمائش منعقد کی گئی جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والی جیولری ڈیزائنر سلمٰی افتخار کے ڈیزائن کئے گئے زیورات رکھے گئے تھے۔ سونے کے جڑاؤ زیورات کی یہ نمائش منگل کی شام منعقد کی گئی۔ سلمٰی افتخار نے بتایا کہ اس نمائش کے ذریعے وہ اپنے کام کو مغربی ممالک میں متعارف کروانا چاہتی ہیں۔ اس سے قبل وہ پیرس میں ایک نمائش منعقد کرچکی ہیں۔
سلمٰی نے بتایا کہ وہ قیمتی پتھر جمع کرتی ہیں جن میں ہیرے، موتی، زمرد، یاقوت، فیروزہ وغیرہ شامل ہیں اور پھر ان کے امتزاج سے زیور ڈیزائن کرتی ہیں۔ معروف سابق کرکٹر عمران خان کی اہلیہ جمائما خان بھی، جو ان دنوں لندن میں مقیم ہیں، اس موقع پر موجود تھیں۔
پاکستانی ہائی کمشنر ملیحہ لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نمائش کا مقصد پاکستان کی ثقافت کو فروغ دینا ہے اور ایسی تقاریب کے ذریعے پاکستانی فن کاروں کو بیرون ملک متعارف کروایا جاتا ہے تاکہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہو۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ پاکستان کو مغربی ممالک میں ایک تنگ نظر ملک کے طور پر پیش کرتے ہیں اور پاکستان کو ہمیشہ بحران کا شکار دکھایا جاتا ہے جوکہ سچ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’اس نمائش سے اور ایسے دیگر پروگراموں کے ذریعے ہم پاکستان کی ثقافت صحیح عکاسی کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے کاریگروں کا کام بہت معیاری ہے اور ہم برطانیہ میں لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اس شعبے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانہ پاکستان کے تاجروں کے اشتراک سے اگلے سال برطانیہ میں ایک ٹیکسٹائل نمائش اور ’پاکستان میلہ‘ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں فن کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فنکار شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میلے میں موسیقی، پاکستانی کھانے، فنون لطیفہ اور دیگر پاکستانی مصنوعات پیش کی جائیں گی۔
زیورات کی اس نمائش میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جن میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں۔ بیشتر افراد پاکستانی تھے تاہم چند برطانوی خواتین بھی ان میں شامل تھیں۔ چھوٹے پیمانے پر کی گئی اس نمائش میں شامل اشیاء متوقع طور پر خواتین کی دلچسپی کا باعث رہیں۔ نمائش میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر یوسف صلاح الدین بھی شامل تھے جنہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لئے وہ کئی منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||