| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خاشاک سے سونا سونا دنیا کی قیمتی ترین دھاتوں میں سے ایک ہے۔ اسے حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں لیکن ایک طریقہ پاکستان کے صرافہ بازاروں میں کاریگروں سے گر جانے والے سونےکی گرد کو بازاروں اور نالیوں سے اکٹھا کرنا ہے۔ صوبہ سرحد کے دارلحکومت پشاور کے صرافہ بازار میں بھی تقریبا چالیس افراد اس پیشے سے منسلک ہیں۔ پشاور میں سونے اور زیورات کی تجارت کے سب سے بڑے مرکز صرافہ بازار میں دن بھر چہل پہل رہتی ہے۔ اس چھوٹی سے جگہ میں تقریبا چار سو چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں جہاں لوگ زیوارات کی خریدو فروخت کے لئے تو آتے ہی ہیں لیکن کچھ لوگ یہاں سونے کے ذرات کی تلاش میں آتے ہیں۔ ’نیارے‘ کہلائے جانے والے اس کام سے منسلک تقریبا تیس چالیس افراد یہاں روزانہ آتے ہیں اور اس بازار کی تنگ گلیوں اور گندگی سے بھری نالیوں کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ چھانتے ہیں۔ کچھ لوگ انفرادی طور پر جبکہ کچھ مقامی صرافوں کی رضامندی سے یہ کام کرتے ہیں۔
صرافہ بازار کی ایک بدبودار نالی کے پاس ایک ٹاٹکی اور چند اوزار لئے بیٹھا ملک تاج گزشتہ چالیس برس سے یہ کام کر رہا ہے۔ اپنا معمول بتاتے ہوئے اس نے کہا ’صبح چھ سات بجے آ جاتا ہوں اور دو تین گھنٹے نالیاں ٹٹول کر چلا جاتا ہوں۔ دن میں کچھ نہ کچھ ہاتھ لگ ہی جاتا ہے۔ پھر دو تین روز بعد اسے اکھٹا کر کے فروخت کر دیتا ہوں‘۔ ملک تاج سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب ان کا کہنا ہے کہ کسی اور روزگار کی عدم موجودگی میں وہ یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ’بو کا کیا کریں پیٹ تو پالنا ہے۔ اور کوئی کام بھی تو نہیں ملتا اس لئے یہ گندگی ٹٹولتا ہوں‘۔ ملک تاج دن میں دو تین رتی سونا نکال لیتا ہے جس سے وہ ڈیڑھ دو سو روپے بنا لیتا ہے لیکن وہ اس باضابطہ گروہ کا حصہ نہیں جو صرافہ بازار میں باقاعدہ نیارے کا کام کرتا ہے اور صرافوں کی تنظیم کو ماہوار بھی ادا کرتا ہے۔ البتہ چوہدری منا اس گروپ کا سربراہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام کئی نسلوں سے کرتا آ رہا ہے۔ صرافہ بازار ہی میں ایک تنگ سی عمارت کی چوتھی منزل پر اس کا اڈا اور لیبارٹری ہے۔ جب میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچا تو وہ لوہے اور دیگر دھاتوں کے اکٹھے کئے ہوئے ملبے کی چھان بین کر رہا تھا۔
سر اٹھاتے ہوئے بوڑھے چوہدری منا نے اپنے ہنر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ باریک بورا اکٹھا کرتے ہیں اسے گالتے ہیں اور اپنے ملک کے سونے کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔ ’اسے پانسے کا یا چوبیس قیراط کا بنا کر فروخت کر دیتے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ دن میں کبھی چار رتی بھی نکل آتا ہے اور کبھی دو بھی۔ ’یہ قسمت کی بات ہے ہم محنت کرتے ہیں اور اللہ ہمیں اس کا اجر دیتا ہے‘۔ اپنی اب تک کی سب سے بڑی دریافت کا دلچسپ واقعہ یاد کرتے ہوئے چوہدری منا نے بتایا کہ ایک آدمی کی انگوٹھی گری تھی وہ تلاش کرنے کے لئے اترا تو کڑوں کی چوڑی ملی جو کہ پچیس تولہ وزن کی تھی۔ اس وقت سونا دو سو پچیس روپے تولہ تھا۔ چوہدری منا کا کہنا ہے کہ اب لوگوں نے زیورات پہننا چھوڑ دیے ہیں اس لئے ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں۔ ’پہلے لوگ پہنا کرتے تھے مگر اب یا تو بینکوں میں رکھتے ہیں یا نقلی سونا پہنا جاتا ہے‘۔ چوہدری منا کی اس لیباٹری میں دھونے کے علاوہ سونے کو پگھلانے کے اوزار بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ زمانے بھر کی جمع کی ہوئی گندگی اور دیگر اشیاء کی بھی بہتات ہے۔ قدرت نے سب کے لئے رزق کا کوئی نہ کوئی وسیلہ بنایا ہے۔ خاک اور گندگی سے یہ لوگ دنیا کی قیمتی ترین دھات نکالنے کے ماہر ہیں اور اسی سے ان کی روزی روٹی منسلک ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||