جلد آرہا ہے: تھری - ڈی ٹیلی ویژن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالئیے تو محسوس ہوگا کہ ہم حقیقتاً ایک سہ ابعادی یعنی ’تھری ڈائمنشنل‘ دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمارے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کہ علاوہ اوپر نیچے بھی دنیا آباد ہے۔ لیکن جب ہم اِس سہ جہاتی دنیا کے کسی حصِے کی تصویر بناتے ہیں تو ساری جہات سمٹ کر صرف لمبائی اور چوڑائی میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ چونکہ کاغذ یا کینوس کی اپنی صرف دو سمتیں ہوتی ہیں: لمبائی اور چوڑائی، چنانچہ طویل سرنگ میں سے برامد ہوتی ہوئی ٹرین، گہرے کنوئیں سے نکلنے والی، پانی چھلکاتی ہوئی بالٹی اور درخت سے ٹوٹ کر گرتا ہوا سیب، جب کاغذ یا کینوس کے دو رُخی مِیڈیم پر نمودار ہوتے ہیں تو خود بھی محض دو رُخے رہ جاتے ہیں اور موٹائی یا گہرائی والا تیسرا رُخ سپاٹ سطح پر نمودار نہیں ہو سکتا۔ یہی صورتِ حال فلم یا ٹیلی ویژن کی سکرین پر بھی پیش آتی ہے کیونکہ سکرین محض لمبائی اور چوڑائی رکھتی ہے چنانچہ گہرائی کا ہلکا سا تاثر ہی پیش کیا جا سکتا ہے، اصل گہرائی، فاصلہ اور تناظر نمودار نہیں ہوسکتا۔
اس حقیقت کا انکشاف تو اُنیسویں صدی ہی میں ہوگیا تھا کہ ٹھوس اشیاء کی تیسری جہت کا احساس ہمیں اپنی دو آنکھوں کی بدولت ہوتا ہے۔ ہماری دونوں آنکھیں کسی ٹھوس چیز کو تھوڑے سے مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں چنانچہ اگر اُس چیز کی دو تصویریں اتار لی جائیں، ایک دائیں آنکھ کے نقطہء نظر سے اور دوسری بائیں آنکھ کے زاویے سے، اور پھر دونوں تصویروں کو ملا کر دیکھا جائے تو ہمارے ذہن کے پردے پر جو تصویر بنے گی وہ ٹھوس اور سہ جہاتی یعنی تھری ڈائمنشنل ہوگی۔ ساکت تصویر کی حد تک تو یہ تجربات کامیاب رہے اور ہمارے بچپن تک سٹیریو سکوپ تصویریں دکھانے والے آلات بہت مقبول تھے، خود ہمارے پرائمری سکول کے باہر ایک شخص چادر بچھا کر بیٹھتا تھا جِس پر دوہرے اِمیج والی بہت سی تصاویر پڑی رہتیں۔
اسکے پاس بڑا سا عینک نما آلہ بھی تھا جسکے شیشوں کے سامنے وہ دوہری تصویر لگا دیتا تھا اور یوں دیکھنے والے بچّوں کو وہ تصویر سہ ابعادی یا تھری ڈائمنشنل نظر آتی تھی۔ 3-D فلموں میں بھی یہی تکنیک اپنائی گئی تھی کہ دو کیمروں کے ذریعے ذرا فاصلے سے (یعنی صرف اتنا ہی فاصلہ جتنا انسان کی دو آنکھوں کے درمیان ہوتا ہے) کسی چیز کی تصویر کشی کی جاتی۔ ننگی آنکھ سے دیکھیئے تو آپکو سکرین پر دو اِمیج آپس میں گڈ مڈ دکھائی دیں گے لیکن ایسی فلم دیکھنے کےلیئے ہر تماشائی کو ایک خصوصی عینک فراہم کی جاتی ہے تاکہ دائیں آنکھ صرف دائیں جانب والا امیج دیکھ سکے اور بائیں آنکھ محض بائیں جانب والا، تاہم ذہن کے پردے پر یہ دونوں عکس مِل کر ایک ٹھوس سہ جہاتی تصویر تخلیق کر سکیں۔ سن پچاس کے عشرے میں 3-D فلموں کا بہت رواج تھا اور سن ساٹھ اور ستر کے عشروں میں ٹیلی ویژن کو تھری۔ڈی بنانے کی سر توڑ کوششیں کی گئیں۔ مجھے 1981 کی وہ شام اچھی طرح یاد ہے جب واشنگٹن ڈی سی میں اپنے دفتر سے کام ختم کر کے گھر پہنچا تو تمام اہلِ خانہ مبہوت ہوکر ٹیلی ویژن سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے۔ میں حیران تھا کہ اِن سب لوگوں کو فٹ بال میں راتوں رات اتنی دلچسپی کیسے پیدا ہوگئی۔ تھوڑا سا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ فٹ بال میچ 3-D میں دکھایا جارہا تھا۔ مشکل یہ تھی کہ تیسری جہت کا لطف محسوس کرنے کےلیئے آپکو ٹی وی سکرین کے عین سامنے بے حس و حرکت بیٹھنا پڑتا تھا --- ذرا سی گردن ہِلی اور تیسری جہت کا مزہ غارت! شاید اسی پابندی کے باعث سن 80 کی دہائی میں تھری ۔ ڈی ٹیلی ویژن مقبول نہ ہوسکا۔ تاہم اب فلپس کمپنی نے برسوں کی تحقیق کے بعد ایک ایسا طریق کار دریافت کر لیا ہے کہ نہ تو ناظرین کو خصوصی عینک لگانی پڑے گی اور نہ ہی سکرین کے عین سامنے بے حس و حرکت بیٹھنا پڑے گا۔ نئی تکنیک میں تصویر کے ہر نیلے، سرخ اور سبز ذیلی پِکسل کے اوپر ننھا سا لینس آجاتا ہے جو پِکسل کو نو (9) مختلف زاویوں پر منعکس کرتا ہے۔ چنانچہ ٹی وی سکرین کو کسی زاویے سے بھی دیکھا جائے اس پر ٹھوس، تین طرفی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
فی الحال فلپس کمپنی نے یہ تکنیک اپنے 42 اِنچ کے پلازمہ سکرین والے ٹیلی ویژن میں استعمال کی ہے اور اسے دکانوں کے شو کیس میں تشہیری مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کچھ قمار خانوں نے اپنی جُوئے کی مشینوں پر یہ تھری ۔ ڈی سکرینیں لگوالی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ٹھوس امیج دیکھ کر جواری زیادہ پیسہ لُٹانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ گھریلو ٹیلی ویژن کی سکرین تک پہنچنے میں اِس تکنیک کو کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن ویڈیو گیمز کی دنیا میں اس تکنیک کا چلن تیزی سے ہورہا ہے۔ فلپس نے ایک ایسا سافٹ ویر بھی تیار کر لیا ہے جس کی مدد سے عام وڈیو کو 3-D ویڈیو میں تبدیل کیا جاسکے گا۔ یہ سافٹ ویر ابھی تجرباتی منازل میں ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ برس کی عالمی صنعتی نمائش میں اسکا بھرپور مظاہرہ کیا جاسکے گا۔ تفریحی مقاصد کے لیئے سامنے آنے والی اِس تکنیک کا ایک ضمنی فائدہ اُن سرجنوں کو بھی پہنچے گا جو ریموٹ کنٹرول پر سرجری کی نگرانی کرتے ہیں اور انسانی جسم کے اندر جاری اعمال و افعال کو اپنی سکرین پر تین جہات میں دیکھ سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں فراموش کردہ مسلمان خاتون جاسوس 26 July, 2006 | قلم اور کالم مختلف مقاصد، مختلف تنظیم25 July, 2006 | قلم اور کالم مشرق کی قینچی، مغرب کی کُلید21 July, 2006 | فن فنکار فیض بذریعہ خالد: ناممکن کا ممکن21 July, 2006 | فن فنکار ’انگلینڈ سیریز سخت ہو گی‘14 June, 2006 | کھیل پاکستانی فلم نئی صدی کی دہلیز پر18 May, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلم نئی صدی کی دہلیز پر17 May, 2006 | فن فنکار فلمی خاکے: ’جہاں تک دیکھا‘ 13 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||