BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 June, 2006, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انگلینڈ سیریز سخت ہو گی‘

وقار
وقار مشتاق احمد کو بھی ٹیم میں شامل کرنے کے حامی ہیں
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے بالنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح انگلینڈ کے خلاف سیریز کافی سخت ہو گی تاہم پاکستان کی ٹیم یہ سیریزجیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ فاسٹ بالر وقار یونس نے کہا کہ پاکستان نے سری لنکا کو ان کے گھر جا کر ہرایا اور سری لنکا نے انگلینڈ کو ان کے ملک میں شکست دی اور اب پاکستان کی ٹیم کو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیئے انگلینڈ کو ہرانا ضروری ہو گیا ہے۔

پاکستان کی ٹیم کے بالنگ کوچ کے مطابق لیگ سپنر مشتاق احمد آج کل انگلینڈ میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جولائی اور اگست میں انگلینڈ میں موسم قدرے گرم ہوتا ہے اور اس موسم میں وہاں وکٹیں خشک ہوتی ہیں اور ایسی وکٹوں پر مشتاق احمد جیسا سپن بالر کافی سود مند ہو سکتا ہے۔

وقار یونس نے کہا کہ دورہء انگلینڈ کے لیے مشتاق احمد کو ٹیم میں نہ رکھنے کی وجہ ان کی سمجھ میں تو نہیں آئی۔

سسکس کاؤنٹی کی جانب سے کھیلنے والے مشتاق احمد نے اس برس بھی گزشتہ برس کی طرح کاؤنٹی سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ شعیب اختر کے ٹیم میں نہ ہونے سے نقصان ہو سکتا ہے اور شعیب کے فٹ ہوتے ہی انہیں ٹیم میں شامل کرنا چاہیے۔

وقار یونس کے مطابق پاکستان کے فاسٹ بالر بھی انگلینڈ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ محمد آصف اچھی فارم میں ہیں اور رانا نوید نے بھی کاؤنٹی کھیل کر کافی تجربہ حاصل کیا ہے۔

پیر بارہ جون سے شروع ہونے والے پاکستان کی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں وقار یونس نے پہلے تین سیشنز میں طبعیت کی خرابی کے سبب بالرز کی تربیت نہیں کی۔

ادھر پاکستان کی ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کیمپ کے پہلے دو دن بیماری کی وجہ سے تربیت نہیں کی البتہ بدھ کے دن صبح کے سیشن میں بیٹنگ کی لیکن فیلڈنگ کی تربیت میں حصہ نہیں لیا اور شام کے سیشن میں وہ پھر نہیں آئے۔

جنوبی افریقہ سے آئے جونٹی روڈز نے اپنے پندرہ روز کے قیام میں پاکستان کی ٹیم کو چار دن فیلڈنگ میں تربیت دینی ہے اور چار دن میں سے تین دن بیت چکے اور انضمام الحق ابھی تک اس مہنگے فیلڈنگ کوچ سے استفادہ نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد