زخمی شعیب کی جگہ شاہد نذیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھائیس سالہ فاسٹ بالر شاہد نذیر ایک مرتبہ پھر سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور انہیں پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے لیئے ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ شاہد نذیر دورۂ انگلینڈ کے لیئے لگائےگئے تربیتی کیمپ میں بھی شامل نہیں تھے لیکن انہیں کیمپ میں شامل فاسٹ بالر راؤ افتخار پر فوقیت دی گئی۔ شاہد نذیر نے 1996 میں زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنے کیرئر کا آغاز کیا تھا لیکن سنہ 2000 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے کے بعد انہیں ٹیم میں جگہ نہ مل سکی۔ تاہم وہ گزشتہ برس ٹیم کے ساتھ بھارت گئے تھے لیکن انہیں کوئی میچ نہیں کھلایا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین وسیم باری نے جمعرات کو لاہور میں دورۂ انگلینڈ کے لیئے پاکستان کی سولہ رکنی ٹیم کا اعلان کیا۔ وسیم باری نے کہا کہ شعیب اختر کے ان فٹ ہونے کے بعد ایسے فاسٹ بالر کی ضرورت تھی جو انگلینڈ کے حالات میں بہتر بالنگ کروا سکے اور چونکہ شاہد ایک سیم بالر ہے اس لیئے اسے موقع دیا جا رہا ہے جبکہ راؤ افتخار ون ڈے کے لیئے اچھے بالر ہیں۔ وسیم باری نے کہا کہ یہ ایک متوازن اور اچھی ٹیم ہے اور اگرچہ شعیب اختر کی عدم دستیابی کے سبب ٹیم کو دھچکا پہنچا ہے لیکن یہ ٹیم انگلینڈ میں بہت سخت مقابلہ کرے گی اور اچھے نتائج دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی فٹ ہیں اور ٹیم کا انتخاب کوچ، کپتان اور تمام سلیکٹرز کی باہمی رضامندی سے ہوا ہے۔
پاکستان کی ٹیم میں تین اوپنرز شامل کیئے گئے ہیں اور وسیم باری کے مطابق سولہ رکنی ٹیم میں چوتھے اوپنر کی جگہ نہیں بنتی۔ دورہ طویل ہونے کے باوجود صرف ایک وکٹ کیپر کو ٹیم میں رکھا گیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ’ کامران اکمل کی کارکردگی دوسرے وکٹ کیپر کی موجودگی سے متاثر ہوتی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ مشتاق احمد کا نام بھی زیرِغور رہا لیکن انہیں بھی ٹیم میں اس لیئے نہیں لیا گیا کہ دوسرے سپنر کے ہونے سے دانش کنیریا دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ٹیم میں پانچ فاسٹ بالر رکھے گئے ہیں جس کی وجہ وسیم باری کے نزدیک شعیب اختر کی عدم دستیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب کے فٹ ہو جانے کے بعد وہ ٹیم کے سترہویں رکن کی حیثیت سے انگلینڈ جائیں گے۔ وسیم باری نے آسٹریلیا کے دورے کے لیئے پاکستان اے ٹیم کا اعلان بھی کیا۔ یاسر حمید اس مرتبہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل نہیں کر سکے جبکہ پاکستان اے کے کپتان کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور حسن رضا کی جگہ یہ ذمہ داری مصباح الحق کو دے دی گئی ہے جبکہ نائب کپتان بازید خان ہیں۔ پاکستان کی ٹیم: ریزرو کھلاڑی: عاصم کمال، راؤ افتخار، ذوالقرنین حیدراور توفیق عمر۔ | اسی بارے میں ’انگلینڈ میں جیت کے امکانات ہیں‘07 June, 2006 | کھیل ’شعیب انگلینڈ نہیں جا سکیں گے‘07 June, 2006 | کھیل ٹیم مینیجرظہیر عباس ہونگے06 June, 2006 | کھیل شعیب کے ٹخنے میں’فریکچر‘04 June, 2006 | کھیل ’وہ کرکٹر جنہیں گھٹنے لے بیٹھے‘03 June, 2006 | کھیل شعیب کی فٹنس، سوالیہ نشان برقرار01 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||