شعیب کے ٹخنے میں’فریکچر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اختر کی فٹنس کا معمہ حل ہونے کا امکان معدوم ہوتا جا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ معاملہ پاکستان کی ٹیم کے انگلینڈ روانگی تک شاید ہی حل ہو سکے۔ شعیب کی فٹنس کی بابت تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ان کے ٹخنے پر ہیر لائن فریکچر کا شبہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ دورہ انگلینڈ کے پہلے حصے کے لیے دستیاب نہ ہو سکیں۔ شعیب اختر کہ جنہیں چند دن پہلے ڈاکٹرز نے سخت تربیت سے روک دیا تھا اور ہدایت دی تھی کہ وہ فٹ نس کیمپ کے صبح کے سیشن میں ہلکی ورزش کریں لیکن وہ ہفتے کی شام کو بھی قذافی سٹیڈیم آئے اور باقی کھلاڑیوں کے ہمراہ فٹ بال کھیلی۔ کھیل کے دوران وہ اپنے دونوں پاؤں آزادانہ طور پر استعمال کر رہے تھے۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ شعیب کے ٹخنے پر پرانی چوٹ کے سبب سوجن ہے اور ابھی اس پر ڈاکٹروں کی مکمل اور مستند رپورٹ آنا باقی ہے اور جہاں تک ٹیم میں ان کی شمولیت کا اور انگلینڈ کے دورے کے پہلے حصے کے لیئے ان کی دستیابی کا معاملہ ہے تو شعیب اختر فٹ ہو کر کسی وقت بھی دورے کے دوران ٹیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انضمام نے کہا کہ اگر وہ ٹیم میں شامل نہ ہو سکے تو اس سے ٹیم کو فرق تو پڑے گا کیونکہ وہ ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کی ٹیم کے کوچ باب وولمر نے کہا کہ شعیب کےٹخنے پر ہیئرلائن فریکچر کا صرف شبہ ہے اور ان کے سکین کی رپورٹیں جنوبی افریقہ بھجوائی جا رہی ہیں تاکہ ان پر دوسری رائے لی جا سکے کہ یہ کوئی ہیر لائن فریکچر ہے یا ان کے ٹخنے کی پرانی تکلیف پھر ابھر آئی ہے۔ باب وولمر نے کہا کہ ممکن ہے کہ جنوبی افریقہ سے رپورٹس ٹیم کے اعلان کے بعد موصول ہوں۔ ادھر شعیب اختر کے ذاتی معالج ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ شعیب کو کوئی ہیر لائن فریکچر نہیں، ان کے ٹخنے پر ہلکا سا دباؤ ہے اور وہ ایک ہفتے تک بالکل فٹ ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر توصیف کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے ہیر لائن فریکچر ہو تو وہ فٹ بال کیسے کھیل سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین وسیم باری نے بھی آج قذافی سٹیڈیم میں کھلاڑیوں کی پریکٹس دیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور فارم کا جائزہ لے کر آٹھ جون کو پاکستان اور پاکستان اے کے کھلاڑیوں کے نام بورڈ کو دے دیں گے۔ وسیم باری نے کہا کہ شعیب کے بارے میں کوئی رپورٹ اب تک ان تک نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ شعیب کو ٹیم میں رکھنے کا فیصلہ ان کی میڈیکل رپورٹس دیکھ کر اور کوچ، کپتان اور ٹرینر سے مشورہ کر کے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شعیب کو فٹنس ظاہر کرنے کے لیے ان کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں اور جو بھی فیصلہ ہو گا ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا۔ وسیم باری نے کہا کہ فٹنس کے مسئلے کے سبب اگر شعیب ٹیم کے ساتھ نہ جا سکے تو یہ ٹیم کے لیے دھچکا ہوگا کیونکہ شعیب ٹیم کا اثاثہ ہیں اور دوسری ٹیم کے لیے ایک خطرہ ہیں۔ | اسی بارے میں ’وہ کرکٹر جنہیں گھٹنے لے بیٹھے‘03 June, 2006 | کھیل شعیب کی فٹنس، سوالیہ نشان برقرار01 June, 2006 | کھیل شعیب کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار29 May, 2006 | کھیل ’دورہِ انگلینڈ کے لیئے دستیاب ہوں‘09 May, 2006 | کھیل شعیب اختر کا امتحان دو میچ27 May, 2006 | کھیل فٹ نس کیمپ میں 21 کھلاڑی شامل18 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||