’وہ کرکٹر جنہیں گھٹنے لے بیٹھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپورٹس میں گھڑ دوڑ ایک ایسا کھیل ہے جس میں اگر گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو اسے عام طور پر گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک اور صورت یہاں برطانیہ میں ہے۔ برسٹل نامی شہر کے قریب گھوڑوں کا ایک نیلام گھر ہے۔ برطانیہ میں اگر ریس کے گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے تو اسے اس نیلام گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اس نیلام گھر سے ان گھوڑوں کو عام طور پر فرانسیسی قصاب خرید لے جاتے ہیں اور فرانس میں ان کا گوشت بیچتے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں گائے اور بکری کے گوشت یعنی بیف اور مٹن کی طرح فرانس میں گھوڑے کا گوشت بہت پسندیدہ اور مرغوب ہے۔ یہ تو تھا ریس کا معاملہ، جس کے ظالمانہ طریقے کی مثال کسی اور سپورٹس میں نہیں ملتی۔ دوسرے کھیلوں، کرکٹ اور فٹ بال کے علاوہ ایتھلیٹ کے مختلف شعبوں میں بازؤں، ٹانگوں یا پٹھوں اور جوڑوں میں تکلیف شروع ہو جائے تو اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا کہ تکلیف کا شکار ہونے والا کھیل کو خیرباد کہہ دے۔ اگر یہ فیصلہ تکلیف کا شکار ہونے والا خود نہیں کرتا تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ اسے ٹیم میں شامل نہ کیا جائے۔ پاکستان کے فاسٹ بالر شعیب اختر آج کل اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوں نے سترہ وکٹیں لے کر سیریز جیتنے میں پاکستان کی مدد کی تھی لیکن اس کے بعد گھٹنے کی تکلیف کے باعث وہ جنوری سے لے کر اب تک میچ نہیں کھیل سکے۔ چاند ماہ قبل آسٹریلیا میں ان کے گھٹنوں کا آپریشن بھی ہوا لیکن اب وہ ٹخنوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور انہیں آرام کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر آ رہی ہے ۔ لیکن کیا وہ اس ٹیم میں شامل ہوں گے؟ یہ سوال اس وقت ہر ایک کی زبان پر ہے۔ اگر وہ اس قابل ہوئے کہ ڈھائی ماہ تک جاری رہنے والے دورے کے دوران فٹ رہ سکیں تو یہ پاکستانی ٹیم کے لیے ایک بڑا بونس ہوگا۔
لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جن کھلاڑیوں کو اس سے پہلے اس طرح گھٹنوں کی تکلیف ہوئی ہے وہ اپنا کیریئر جاری نہیں رکھ سکے۔ انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان بھی اس تکلیف میں مبتلا ہیں اور گزشتہ نومبر سے ٹیسٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔ پاکستان کے سپنر ثقلین مشتاق بھی گھٹنوں ہی کی تکلیف اور آپریشن کے بعد نہ تو پاکستانی ٹیم میں رہے اور نہ ہی سرے کاؤنٹی میں۔ نیوزی لینڈ کے دو کامیاب بلے باز، مارٹن کرو اور مارک گریٹ بیچ کا کیریئر بھی گھٹنوں ہی کے آپریشن کے بعد ختم ہوا۔ انگلینڈ کے دو فاسٹ بالروں نیل فاسٹر اور جوناتھن ایگینو کو بھی گھٹنوں ہی کے آپریشن نے کرکٹ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ایگینو اب بی بی سی کے کمنٹیٹر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے سابق کپتان شون پولک کے والد پیٹر پولک بھی گھٹنے ہی کی تکلیف کے بعد فاسٹ بالنگ جاری نہیں رکھ سکے تھے۔ اور ہاں! دنیا کے دو بڑے بیٹسمین حنیف محمد اور سر گارفیلڈ سوبرس بھی گھٹنے کا آپریشن کرنے کے بعد ہمیشہ تکلیف ہی میں مبتلا رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شعیب اختر گھٹنوں کے آپریشن کے بعد بالنگ کریں گے اور کریں گے تو کیا اپنی اسی رفتار کو برقرار رکھ سکیں گے جس کی وجہ سے وہ جانے جاتے ہیں۔ دنیا کے ایک اور مایہ ناز بیٹسمین سچن ٹنڈولکر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے کاندھوں کے جوڑ کا آپریشن کرایا ہے لیکن اب تک کشمکش میں مبتلا ہیں۔ |
اسی بارے میں شعیب اختر کا نیا روپ04 December, 2005 | کھیل شعیب اختر، ہنگامہ خیز کریئر10 November, 2005 | کھیل شعیب اختر کی ٹی وی چینل کودھمکی26 October, 2005 | کھیل شعیب اختر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں؟ 17 October, 2005 | کھیل شعیب اختر، میڈیا ٹرائل یا ٹرائلز میچ29 August, 2005 | کھیل شعیب اختر کا جواب تاخیر سے08 February, 2005 | کھیل شعیب اختر کی جواب طلبی04 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||