BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 December, 2005, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اختر کا نیا روپ
شعیب
لاہور ٹیسٹ کے اختتام پر شعیب کی مسکراہٹ لوٹ آئی
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل شعیب اختر کے لیے محنتی، سنجیدہ اور پر عزم جیسے الفاظ کبھی بھی استعمال نہیں کیے گئے۔

کیریئر کے دوران متعدد بار زخمی ہونا اور غیر ذمہ دارانہ رویہ بین الاقوامی کرکٹ میں شعیب کی پہچان تھا۔ ان کے نقاد بار بار یہ سوال اٹھاتے رہے کہ کیا وہ ٹیم میں شمولیت کے اہل ہیں۔ نقادوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پاکستانی ٹیم کے کوچ باب وولمر کے طریقۂ کار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ شعیب حد سے زیادہ خود غرض، غصے والے اور غیر ذمہ دار کھلاڑی ہیں۔ لیکن انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی فتح میں شعیب کے کلیدی کردار کے بعد سب کچھ بدل رہا ہے۔

تیس سالہ شعیب نے تینوں ٹیسٹ میچوں میں ایسی پچوں پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو کہ بلے بازوں کے لیے بہترین تصور کی جا رہی تھیں۔ اس سیریز میں سترہ وکٹوں کے حصول میں نہ صرف ان کی برق رفتار یارکر کام آئے بلکہ انگلش بلے باز ان کی ’سلو ڈیلیوری‘ بھی نہ سمجھ سکے۔

لاہور ٹیسٹ کے اختتام پر شعیب کی مسکراہٹ لوٹ آئی تھی مگر اس مرتبہ اس مسکراہٹ سے اطمینان جھلکتا تھا نہ کہ شرارت۔ کوچ باب وولمر کا بھی کہنا تھا کہ ’ میرے نزدیک سب سے بڑی تبدیلی شعیب میں آئی ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جب شعیب فٹ اور اپنے جوبن پر ہوتے ہیں تو وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

اس سیریز میں چوٹیں بھی شعیب کی راہ میں حائل نہ ہو سکیں

یہی وہ شعیب ہیں جو اس برس جنوری میں دورہ آسٹریلیا کے دوران زخمی ہو کر واپس وطن آ گئےتھے۔ اور اس وقت یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ شعیب کی چوٹ اصل ہے یا نہیں یا یہ ایک مرتبہ پھر انہیں ڈریسنگ روم کے جھگڑے کے نتیجے میں واپس بھیجا گیا ہے۔

شعیب کی واپسی کے بعد برطانوی کاؤٹنی ووسٹرشائر کے سربراہ جان ایلیٹ کے اس بیان نے شعیب کے رویے پر سوال اٹھائے جس میں انہوں نے کہا کہ ’شعیب کسی بھی کلب کے لیے کارآمد نہیں۔ ڈریسنگ روم میں حالات قابو میں رکھنے کے لیے ٹیم سپرٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس جگہ شعیب جیسا لڑکا ہو وہاں صرف افراتفری ہی ہوتی ہے‘۔

شعیب اختر کو بھارتی فلم انڈسٹری کے جانب سے فلموں میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی اور مبصرین نے کہنا شروع کر دیا کہ شعیب کی جگہ کرکٹ میں نہیں گلیمر کی دنیا میں ہے اور یہی وجہ تھی کہ آسٹریلیا کے خلاف میچوں کے لیے ورلڈ الیون میں شعیب کی شمولیت کو ان کی کارکردگی سے زیادہ کاروباری مجبوری تصور کیا گیا۔

شعیب نے وولمر کے اعتماد کو درست ثابت کیا

شعیب نے ورلڈ الیون کی جانب سے دو ون ڈے میچوں میں شرکت کی اور ناکام رہے۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستانی کوچ باب وولمر نے یہ فیصلہ کیا کہ شعیب کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان پر توجہ دینے کی صرورت ہے کیونکہ اس وقت ان کا وقار مجروح ہو چکا تھا اور وہ اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتے تھے۔

ملتان ٹیسٹ سے قبل وولمر نے کہا کہ’شعیب کو اپنی فٹنس ثابت کرنا ہوگی۔ انہیں اپنے آپ کو اس ٹیم میں شمولیت کا اہل ثابت کرنا ہو گا جس میں متعدد فاسٹ بالر موجود ہیں‘۔

شعیب نے نہ صرف یہ کر دکھایا بلکہ وہ ملتان ٹیسٹ میں پاکستان کی فتح کا ایک اہم کردار ثابت ہوئے۔ کھیل کے دوران ذہن کےاستعمال اور محنت نے پاکستانی کپتان کو بھی شعیب کی قابلیت کا قائل کر دیا۔ اور وہی انصمام جنہوں نے سنہ 2004 میں بھارت سے شکست کے بعد شعیب کی اہلیت پر سوال اٹھایا تھا یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ’ وہ بہت محنت کر رہا ہے اور اس نے سو فیصد سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے‘۔

شعیب کے ذمہ دارانہ رویے کی جھلک ان کی بیٹنگ میں بھی نظر آتی ہے جو اس سے قبل صرف غیر ذمہ دارانہ اونچی اونچی شاٹوں تک محدود تھی۔ شعیب ملتان ٹیسٹ کی دوسری اننگز کامران اکمل کے ساتھ جس طرح وکٹ پر رکے وہی کارکردگی انہں نے فیصل آباد ٹیسٹ میں ایک مرتبہ پھر دہرائی۔

 وہ بہت محنت کر رہا ہے اور اس نے سو فیصد سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے
انضمام الحق

پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ’ شعیب کی بلے بازی سے یہ نظر آتا ہے کہ وہ اپنے کھیل کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ اب ہماری ٹیم میں پہلے سے گیارہ نمبر تک ہر کھلاری کارکردگی دکھا رہا ہے اور یہ ہماری ٹیم کی اہم ترین خوبی ہے‘۔

نہ صرف پاکستانی ٹیم بلکہ برطانوی کپتان نے بھی شعیب کو دونوں ٹیموں کے درمیان واضح فرق قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلافِ معمول خود شعیب اپنی اس کامیابی پر کہتے ہیں کہ انہیں’مزید محنت کی ضرورت ہے‘۔

درحقیقت شعیب کے کرکٹ کیرئر کے آغاز کے آٹھ سال بعد پاکستانی ٹیم کو پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اب شعیب پر نہ صرف اعتبار کر سکتی ہے بلکہ وہ ان کے لیے فتح گر ثابت ہو سکتے ہیں۔

66پلیئرآف دی ڈے
جو اچھا کھیلے وہی ’سکندر‘
66جیت متاثرین کے نام
شعیب نےجیت کو زلزلہ متاثرین کے نام کیا ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد