اشعر رحمٰن
|  |
 | | | شعیب اختر ٹیم کے چوتھے ستون بن سکتے ہیں |
ہم روزانہ اپنی پسند آپ پر تھوپتے ہیں۔ جب پاکستان اور انگلستان کے درمیان ٹیسٹ سیریز اپنے اختتام کے قریب ہے، کیوں آج آپ کو یہ چوائس دی جائے۔ جمعہ کے روز کے کھیل میں کئی ایک کھلاڑیوں نے اپنے جوہر شائقین کے سامنے رکھے، ان میں سے کسی کو بھی آپ پلیئر آف دی ڈے کا خطاب عطا کرسکتے ہیں۔ محمد یوسف نے جمعہ کو اپنے کیریئر کی تیسری ڈبل سنچری بنائی اور ساتھ ہی ساتھ ٹیسٹ میچوں میں اپنی سب سے بڑی باری مکمل کی۔ مجموعی طور پر یوسف اچھا کھیلے مگر ہوسکتا ہے کہ ان کے مداح ان کی اس اننگز کو ان کے کیریئر کی سب سے اچھی باری قرار دینے میں تامل کریں۔ یوسف کو بعض حلقے ظہیرعباس ثانی گردانتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ 223 رنز کی اس اننگز میں کچھ سٹروکس کی کمی رہی، جیسے کہ پل شاٹ۔ یوں محسوس ہوا کہ یوسف کندھے کی تکلیف سے ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں ہوپائے، اسی وجہ سے انہیں اٹھتی ہوئی گیندوں کو کھیلنے میں کسی قدر دشواری کا سامنا ہے۔ لاہور کی سیدھی وکٹ پر کئی بار ہارمین اور فلنٹوف نے انہیں مشکلات سے دوچار کیا مگر یوسف کی مستقل مزاجی ان کے کام آگئی اور وہ پاکستان کے بہت بڑے سکور میں مرکزی کردار ادا کرگئے۔ کامران اکمل ایک اچھے اِنٹرٹینر ہیں۔ وہ اچھی رفتار سے سکور کرتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میچ میں وہ عام حالات سے زیادہ محنت کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان کی وکٹ کیپنگ خاصی معیاری رہی ہے اور ان کی بیٹنگ کے لیے تو شاندار کے سوا کوئی اور موزوں لفظ ہمارے ذہن میں ہے ہی نہیں۔ وہ اسی پوزیشن پر بیٹنگ کرتے ہیں جس پر آسٹریلیا کے لیے آڈم گلکرسٹ کھیلتے ہیں، یعنی نمبر سات۔  | شعیب اختر ٹیم کے چوتھے ستون  یونس خان، محمد یوسف اور انضمام الحق کے ساتھ شعیب اختر ٹیم کے چوتھے ستون بن سکتے ہیں۔ بس انہیں اپنی فِٹنس قائم رکھنی ہے اور توجہ کھیل پر مرکوز رکھنی ہے۔  |
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ کامران کے لیے یہ بہت اونچی پوزیشن ہے اور انہیں نمبر آٹھ پر کھیلنا چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ ٹیم میں توازن کے لیے یہ ضروری ہو۔ مگر کامران کا اب تک کا کیریئر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اگر کریز پر ان کا ساتھ دینے والا کوئی ہو تو وہ ایک لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی برس انڈیا کے شہر موہالی میں عبدالرزاق کے ساتھ ان کی میچ بچانے والی پارٹنرشپ کی یاد ابھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ اس طرح کی لمبی اننگز کی امید اس وقت ذرا کم رہ جاتی ہے جب آپ کے ساتھ ٹیل اینڈرز ہوں۔ جمعہ کے کھیل کے بہترین کھلاڑی قرار پانے کے تیسرے امیدوار پاکستانی کپتان انضمام الحق ہیں۔ انضمام گزشتہ بدھ کو ہاتھ میں چوٹ لگنے کے باعث ریٹائر ہوگئے تھے۔ ایک روز سے زیادہ انتظار کے بعد وہ جمعہ کو اپنی نامکمل اننگز کو شروع کرنے دوبارہ میدان میں اترے۔ انہوں نے جمعہ کو صرف انچاس گیندوں میں باسٹھ نہایت قیمتی رنز کا اضافہ کیا۔ وہ بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوئے۔ اس سیریز میں انضمام نے اپنی پانچ اننگز میں تین ہاف سنچریاں اور دو سنچریاں سکور کیں۔ ان کا کھیل اپنے عروج پر نظر آیا اور بلاشک و شبہہ وہ مین آف دی سیریز کے سب سے زیادہ امیدوار ہیں۔ البتہ جمعہ کے کھیل کے حوالے سے ان کا موازنہ شعیب اختر سے کیا جاسکتا ہے۔ شعیب نے انتہائی تیز رفتاری باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔  | | | انضمام سیریز کا مین آف دی میچ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں |
شعیب اختر جتنی بار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اتنی بار ہی ان کے مداحوں کے منہ سے اسطرح کے جملے نکلتے ہیں: ’خدا کرے شعیب کا جذبہ قائم رہے۔ خدا کرے شعیب اپنی توجہ کھیل پر اسی طرح مرکوز رکھیں۔‘ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ پاکستان کی انگلستان کے خلاف اچھی کارکردگی کے باوجود خیال یہی ہے کہ پاکستان کو ابھی کافی اِمپروومنٹ کی ضرورت ہے۔ یونس خان، محمد یوسف اور انضمام الحق کے ساتھ شعیب اختر ٹیم کے چوتھے ستون بن سکتے ہیں۔ بس انہیں اپنی فِٹنس قائم رکھنی ہے اور توجہ کھیل پر مرکوز رکھنی ہے۔ محمد یوسف، کامران اکمل، انضمام الحق اور شعیب اختر میں سے کوئی بھی جمعہ کےروز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے خیال میں تو اس اعزاز کا امیدوار قذافی سٹیڈیم میں موجود وہ تماشائی بھی ہے جو ایک پلےکارڈ کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا تھا کہ میدان عمل میں ناموں اور ذاتی باتوں سےقطع نظر ایک کھلاڑی کا کھیل اسے ممتاز کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہب جیسی ذاتی باتوں کا اثر بڑھتا جارہا ہے، کھیل کو بھی مذہب سے بالاتر رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر آپ کو رین بیل کا کھیل اچھا لگا تو آپ انہیں اپنا ووٹ دیں اور اگر محمد یوسف کی اننگز اچھی لگی ہے تو انہیں بہترین کھلاڑی کے خطاب سے نوازیں۔ اگر آپ یوسف کو صرف اس لیے پسند کریں کہ وہ آپ کے ہم مذہب ہیں تو شاید آپ بلامقصد کھیل رہے ہیں۔
|