آج کا کھلاڑی، شعیب ملک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ٹیسٹ کے پہلے روز کے کھلاڑی رہے شعیب۔ شعیب ملک، حالانکہ جی تو چاہ رہا ہے کہ کاش یہ شعیب اختر ہوتے۔ شعیب اختر نے کھیل کے آخری سیشن میں خاصی دھواں دھار باؤلنگ کی اور اگر وہ بدقسمت نہ رہتے تو دو ایک وکٹیں تو چٹکا ہی سکتے تھے۔ کھیل کے پہلے دو سیشنز میں ان کی غیرضروری شارٹ گیندوں کے بعد یہ ایک انتہائی متاثر کن سپل تھا۔ ایک جینوئن اور بھوکے فاسٹ باؤلر کا سپل جسے اپنے آپ کو ایک بار پھر ایک عالمی طاقت ثابت کرنا ہے۔ دوسری طرف ہیں شعیب ملک انہیں بھی ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے۔ مثلاً یہ کہ ان کا باؤلنگ ایکشن کرکٹ کے قوانین کے مطابق ہے۔ اور یہ کہ وہ ایک اوپننگ بلے باز ہیں۔ اور یہ کہ ان کے اندر ٹیم میں پانچویں باؤلر کا خلا پر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اِن میں سب سے اہم بات ان کے باؤلنگ ایکشن سے متعلق ہے۔ ورنہ ہمیں اس کھلاڑی پر جو ثقلین مشتاق کی تقلید کرتے ہوئے باؤلر بنے اور پھر اپنے زور بازو پر ایک بلےباز کی حیثیت سے خود کو منوانے کے کام میں جت گیا اتنا یقین تو ہے کہ وہ کم از کم محنت سے چشم پوشی نہیں کریں گے۔ ایک مڈل آرڈر بلے باز کو افتتاحی بیٹسمین میں بدلنے کا پاکستان کا انداز بہت پرانا ہے۔ اس ساری کارروائی میں اچھے اچھوں کے چھکے چھوٹ گئے۔ اعجاز احمد، محسن خان، ہارون رشید اور نجانے کتنے ہی ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے افتتاحی بلے باز کی پاکستانی کمی کو پورا کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ شعیب ملک کا کیس ان سے یوں مختلف ہے کہ وہ باؤلر سے پہلے ایک مڈل آرڈر بیٹسمین میں تبدیل ہوئے اور پھر ایک روزہ میچوں میں ٹاپ آرڈر میں کھیلنے کے بعد، ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی اننگز کا آغاز کرنے میں میدان میں اترے۔ اس سیریز میں شعیب ملک ابھی تک ایک اچھے آغاز کے بعد بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے کھیل کے انداز میں ابھی بہت سی کمیاں نظر آتی ہیں مگر ان کے سٹروکس میں کاٹ ہے۔
سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ملک کے کھیل میں مجموعی طور پر ان کے سسرال (حیدرآباد دکن) کا تیکھاپن ہے اور وہ چوبیس سال کی عمر میں ہی اپنے ہمہ جہت ٹیلنٹ کا کافی ثبوت دے چکے ہیں۔ وہ آسانی سے ہار ماننے والوں میں نہیں اور ان کی اس عادت کی وجہ سے انہیں ایک بار ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے پر پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض لوگوں کے خیال میں شعیب ملک سستے چھوٹ گئے اور پی سی بی کا ان سے نرم رویہ دراصل ایک طرح ان کے ٹیلنٹ کا اعتراف تھا۔ ہم نے شعیب ملک کے کھیل، ان کے رویے، ان کی سسرال اور پاکستانی ٹیم میں ان کی بدلتی ہوئی پوزیشنوں سب پر بات کرلی۔ بات اگر نہیں ہوتی ہے تو ان تین وکٹوں کی جن کی بدولت وہ ہمارے آج کے کھلاڑی قرار پائے ہیں۔ اب اس کا کیا ذکر کریں جو کرکٹ کے عالمی حکام اور گراؤنڈ پر موجود امپائروں کی نظر میں مشکوک ہے۔ شعیب کو اپنا ایکشن ٹھیک کرنے کے لئے جتن کرنے پڑینگے۔ اسکا علم تو جب ہی ہوگا جب دسمبر میں آسٹریلیا کے ماہرین ان کے قمیض سے آزاد جسم پر مختلف آلات لگاکر یہ رپورٹ دینگے کہ ان کے بائیومکینکس میں کہاں گڑبڑ ہے۔ فی الحال تو بس حیرت کا اظہار ہی ہوسکتا ہے۔ جس پہ شک ہے وہ سرعام ہاتھ دکھاگیا اور سب لوگ تکتے رہ گئے۔ اب بتائیے اس سے بڑا کھلاڑی کون ہوسکتا ہے؟ |
اسی بارے میں شعیب کا ایکشن درست نہیں ہوا16 March, 2005 | کھیل شعیب ملک کو نتیجے کا انتظار14 December, 2004 | کھیل ’شعیب کو اجازت دی جائے‘03 February, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||