شبیر،شعیب ملک کےایکشن پراعتراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شبیراحمد اور آف اسپنر شعیب ملک کے بولنگ ایکشن دوبارہ رپورٹ ہوگئے ہیں۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ملتان میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے امپائرز بلی باؤڈن اور سائمن ٹافل اور ٹی وی امپائر اسد رؤف نے دونوں بولرز کے مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں رپورٹ کی ہے اور میچ ریفری روشن مہاناما نے آئی سی سی کو اس بارے میں مطلع کردیا ہے۔ آئی سی سی کے پریس ریلیز کے مطابق مروجہ قواعد وضوابط کے تحت دونوں بولرز بائیو مکنیک ماہرین کی رپورٹ آنے تک بدستور کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ شبیراحمد تیسری مرتبہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے ہیں پہلی مرتبہ ٹورنٹو میں اور دوسری مرتبہ اس سال ویسٹ انڈیز کے دورے میں ان کے بولنگ ایکشن کا امپائرز نے نوٹس لیا ہے۔ شعیب ملک کے بولنگ ایکشن پر دوسری مرتبہ اعتراض ہوا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قواعد کے تحت ایک بولر کواپنا بازو پندرہ ڈگری تک لچکانے کی اجازت ہے۔ امپائرز بلی باؤڈن اور سائمن ٹافل کے مطابق ٹیسٹ میچ کے پہلے دنوں میں ان دونوں بولروں کا ایکشن ٹھیک تھا لیکن تیسرے روز کے بعد ان ایکشن مشکوک ہو گئے۔ میچ ریفری روشن مہاناما کی جانب کی جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ میچ آفیشلز کو ملتان ٹیسٹ کے دوران ان بولروں کے ایکشن پر شکوک تھے۔ دونوں بولر جو آئی سی سی کے قواعد کے مطابق بولنگ کرنے کے اہل ہیں، لیکن میچ کے دوران کئی مواقع پر وہ ایسا لگا کہ وہ آئی سی سی حددو سے تجاوز کر رہے ہیں۔ روشن مہاناما کے مطابق آئی سی سی کے انسانی حرکات کے ماہر پانچ ہفتے کے اندر ملتان ٹیسٹ کے دوران ان بولروں کی مشکوک بولنگ کا معائنہ کرئے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں بولر انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں بولنگ کر سکیں گے۔ | اسی بارے میں باؤلرز کے خم پر نظر30 July, 2004 | کھیل شعیب کا ایکشن درست نہیں ہوا16 March, 2005 | کھیل بالنگ ایکشن کے قوانین تبدیل05 February, 2005 | کھیل شبیر کے ایکشن پراعتراض ختم15 October, 2005 | کھیل میرا ڈر جاتا رہا: شبیر احمد15 November, 2005 | کھیل شبیرکو آسٹریلیا بھیجنے کا فیصلہ20 September, 2005 | کھیل ’شبیر کا کیرئر، دورہ انگلینڈ سےاہم ہے‘30 August, 2005 | کھیل شبیر: ذمہ داری وولمر کودیدی گئی05 August, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||