بالنگ ایکشن کے قوانین تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ کی تاریخ کے متنازعہ ترین مسئلہ کو سلجھانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے بالنگ ایکشن سے متعلق اپنے قوانین میں نرمی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق بالروں کو پندرہ درجہ تک اپنا ہاتھ سیدھا کرنے کی اجازت ہو گی جس کی نشاندہی کیمرے کے علاوہ برہنہ آنکھ سے بھی واضح طور پر کی جا سکے گی۔ تاہم کسی بھی بالر کے ایکشن کو اگر مشکوک پایا گیا تو موجود طریقہ کار کے برعکس اسے فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔ آئی سی سی کےچیف ایگزیکٹیو میلکم سپیڈ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلہ سے کھیل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ بالنگ ایکشن پر تنازعات گزشتہ ساٹھ سالوں سے کھیل کو متاثر کر رہے ہیں۔
پندرہ درجے کی حد بائیومکینکس ماہرین کی طرف سے وسیع تحقیق کرنے کے بعد عائد کی گئی ہے۔ اس سے پہلے تیز بالروں کے لیے دس درجے اور سپن بالروں کے لیے پانچ درجے کی حد عائد تھی۔ سری لنکا کے سپن بالر مرلی دھرن کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ایکشن پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد آئی سی سی نے گیند پھیکنے کے قوانین پر از سرِ نوغور کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مرلی دھرن کی مخصوص بال ’دوسرا‘ کے دوران مرلی دھرن کا ہاتھ چودہ درجے تک سیدھا ہوتا ہے۔ ماہرین کے ایک پینل کے خیال میں جن میں اروندا ڈسلوا، اینگس فریزئر، مائیکل ہولڈنگ، ٹونی لوئس، ٹم مے اور ڈیوڈ رچرڈ سن شامل تھے موجودہ دور کا ہر بالر کسی نہ کسی انداز میں ان بالنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالنگ ایکشن کے متعلق قوانین مبہم اور غیر واضح تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قوانین کسی حد تک ناقابل عمل بھی تھے۔ آئی سی سی کمیٹی کے چیئرمین سنیل گواسکر نے کہا کہ یہ سفارشات ان لوگوں نے مرتب کی ہیں جو کھیل کے اعلی ترین درجے تک پہنچے ہیں اور اس مسئلہ پر ان کو گہری نظر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||