BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 November, 2005, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا ڈر جاتا رہا: شبیر احمد
شبیر احمد
شبیر احمد دوبارہ فارم میں آنے کے بعد بہت خوش ہیں
پاکستان کے تیز بولر شبیر احمد نے کہا ہے کہ وہ متنازعہ بولنگ ایکشن کے بعد ٹیم میں واپس آنے کے بعد دباؤ میں گیند کر رہے تھے۔

انہوں نے ملتان ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف چار وکٹ حاصل کیے۔

شبیر کا ایکشن تین مرتبہ رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں انگلینڈ کے خلاف گیند کرتے ہوئے دباؤ میں تھا‘۔

لیکن ابتدائی خوف کے اتر جانے کے بعد وہ بہتر گیند کرنا شروع ہو گئے اور ان کی گیند بھی ریورس سوئنگ ہونا شروع ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی تشویش تھی کہ اگر مجھے دوبارہ رپورٹ کیا گیا تو مجھ پر ایک سال کے لیے پابندی لگ جائے گی‘۔

اس کی وجہ سے وہ زیادہ محتاط کھیل رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’آئی سی سی کی طرف سے ایکشن کو جائز قرار دیے جانے کے بعد میں زیادہ محتاط تھا کہ میری کہنی آئی سی سی کے برداشت کی حد پندرہ ڈگری سے زیادہ نہ جائے۔ میرے کوچ بھی میرے اوپر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہیں‘۔

ملتان ٹیسٹ میں شبیر احمد نے وقار یونس کا دس میچوں میں پچاس ٹیسٹ وکٹ لینے کا بھی ریکارڈ برابر کیا ہے۔

شبیراحمد کا یہ 10واں ٹیسٹ ہے۔ اس سے قبل وقار یونس نے 10 ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ٹریسکوتھک کو آؤٹ کر کے انہیں بہت خوشی ہوئی تھی کیونکہ وہ بہت جم کے کھیل رہے تھے۔ ’اور وہ ڈبل سنچری کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کی وکٹ بڑی اطمینان بخش تھی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد