میرا ڈر جاتا رہا: شبیر احمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تیز بولر شبیر احمد نے کہا ہے کہ وہ متنازعہ بولنگ ایکشن کے بعد ٹیم میں واپس آنے کے بعد دباؤ میں گیند کر رہے تھے۔ انہوں نے ملتان ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف چار وکٹ حاصل کیے۔ شبیر کا ایکشن تین مرتبہ رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں انگلینڈ کے خلاف گیند کرتے ہوئے دباؤ میں تھا‘۔ لیکن ابتدائی خوف کے اتر جانے کے بعد وہ بہتر گیند کرنا شروع ہو گئے اور ان کی گیند بھی ریورس سوئنگ ہونا شروع ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی تشویش تھی کہ اگر مجھے دوبارہ رپورٹ کیا گیا تو مجھ پر ایک سال کے لیے پابندی لگ جائے گی‘۔ اس کی وجہ سے وہ زیادہ محتاط کھیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’آئی سی سی کی طرف سے ایکشن کو جائز قرار دیے جانے کے بعد میں زیادہ محتاط تھا کہ میری کہنی آئی سی سی کے برداشت کی حد پندرہ ڈگری سے زیادہ نہ جائے۔ میرے کوچ بھی میرے اوپر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہیں‘۔ ملتان ٹیسٹ میں شبیر احمد نے وقار یونس کا دس میچوں میں پچاس ٹیسٹ وکٹ لینے کا بھی ریکارڈ برابر کیا ہے۔ شبیراحمد کا یہ 10واں ٹیسٹ ہے۔ اس سے قبل وقار یونس نے 10 ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریسکوتھک کو آؤٹ کر کے انہیں بہت خوشی ہوئی تھی کیونکہ وہ بہت جم کے کھیل رہے تھے۔ ’اور وہ ڈبل سنچری کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کی وکٹ بڑی اطمینان بخش تھی‘۔ | اسی بارے میں شبیر: 10 میچوں میں پچاس وکٹیں14 November, 2005 | کھیل شبیر: ذمہ داری وولمر کودیدی گئی05 August, 2005 | کھیل شبیر کی ذمہ داری عاقب پر 23 July, 2005 | کھیل شبیر کے ایکشن کا معائنہ جلد ہو گا10 June, 2005 | کھیل شبیر کے بالنگ ایکشن پر اعتراض30 May, 2005 | کھیل شبیر احمد فٹ ہیں: ٹرینر02 April, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||