باؤلرز کے خم پر نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب سے کرکٹ کے کھیل میں قوائد و ضوابط لاگو کرنے کے لیے ٹی وی اور کمپیوٹر سے مد د لی جانے لگی ہے دنیائے کرکٹ کو مشکل حقائق کا سامنا ہے۔ زیادہ تر باؤلرز ہاتھ روک کر بال پھینکتے ہیں- سوال یہ ہے کہ کتنا پھینکتے ہیں۔ پچھلی صدی میں کھیل میں کہنی کے موڑنے کو انتہائی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مگر ٹیکنالوجی سے معلوم ہوا کہ بال پھینکتے ہوئے زیادہ تر کہنیاں غیر ارادی طور پر خم کھاجاتی ہیں۔ آئی سی سی یعنی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اب ایک سو اہم باؤلرز کے بال کرانے کے اندازوں کی فلم بنا کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے۔ آئی سی سی کے جنرل مینیجر ڈیوڈ رچرڈسن نے بی بی سی کو بتایا کہ’کہیں پر کوئی نرالا عجوبہ جس کے کہنی کے جوڑ سخت ہیں تو وہ بہت کم بازو سیدھا کر سکتا ہے۔ مگر زیادہ تر باؤلرز کا بال کراتے وقت ایک خاص ڈگری تک بازو سیدھا ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ سوچتے ہیں کہ اس کے بال پھینکنے کے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے مگر در حقیقت اس میں دس سے بارہ ڈگری بازو سیدھا ہوتا ہے‘۔ فاسٹ باؤلرز پر تو پہلے ہی سے تحقیق ہوچکی ہے لیکن سری لنکا کے متھیا مرلی تھرن سے متعلق تازہ ترین تنازع کے بعد معلوم ہوا ہے کہ سپین باؤلرز پر معلومات نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایجبیسٹن میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ کے دوران شروع کیے جانے والے پروگرام کے بعد سپین باؤلرز پر اب کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اب انتہائی تیز رفتار کیمرے، ٹی وی کیمروں سے بھی زیادہ طاقتور، باؤلرز کے بال پھینکتے کےایکشن کو ریکارڈ کریں گے۔اس کے بعد کمپیوٹر کے ذریعے ان فلموں کو سہہ سمتی تصاویر میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے انچارج ڈاکٹر پال ہیورین ہیں جنہوں نے انگلینڈ کے جیمس کرٹلی اور ویسٹ انڈیز کے جرمین لاسن کے بال کروانے کے انداز درست کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ ’مقصد یہ کہ نہ صرف ان کھلاڑیوں پر نظر رکھی جائے جن پر شک ہے بلکہ تمام سپینرز کو بھی دیکھا جائے‘۔ موجودہ ضوابط کے مطابق سپین باؤلر کے لیے پانچ ڈگری تک بازو میں خم کی گنجائیش ہے لیکن فاسٹ باؤلر کے لیے یہ صرف اس کی نصف ہے۔ مرلی تھرن کو اب کہا گیا ہے کہ وہ اس طریقے سے بال نہ کروایں جو انہوں نے پچھلے سال ایجاد کی تھی جس میں چودہ ڈگری تک خم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تحقحق کے بعد خیال ہے کہ بہت سے اصول تبدیل ہو جائیں گے۔ بے شک بہت سے کیمرے کھیل کے میدان میں ہوں گے باؤلرز کو ان کی وجہ سے کسی دباؤ کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ صرف تحقییقی مقاصد کے لیے ہونگے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||