شبیرکو آسٹریلیا بھیجنے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے آسٹریلوی بائیو مکینک ماہر پروفیسر بروس ایلیٹ کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شبیراحمد اپنے کیریئر میں تیسری مرتبہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ عاقب جاوید اور باب وولمر کی مدد سے ان کے بولنگ ایکشن کو درست کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔ پی سی بی کسی بائیومکینک ماہر کی خدمات حاصل کرکے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے کیونکہ اگر شبیراحمد دوبارہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے تو پھر انہیں ایک سال تک کرکٹ سے دور رہنا پڑے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پروفیسرایلیٹ سے رابطہ کررہے ہیں اور جیسے ہی انہوں نے اپنی دستیابی سے آگاہ کیا شبیراحمد کو آسٹریلیا بھجوادیا جائے گا۔ سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ عام طور پر بائیومکینک ایکسپرٹ کی رپورٹ آئی سی سی کے پاس بھجوانے کا عمل دوہفتے پر مشتمل ہوتا ہے لیکن کوشش کی جائے گی کہ یہ رپورٹ ایک ہفتے میں آئی سی سی کے پاس چلی جائے اور پھر آئی سی سی سے کہا جائے گا کہ وہ جلد اپنے بولنگ ایکشن جائزہ گروپ کا اجلاس بلواکر شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کے بار ے میں رپورٹ کا جائزہ لے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اکتوبر کے آخری ہفتے تک اس عمل کو مکمل کرکے شبیراحمد کی انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں شرکت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||