BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اصل فرق شعیب اختر ثابت ہوئے‘

شعیب اختر
شعیب اختر کی آہستہ گیند انگلش بلے بازوں کی سمجھ میں نہ آسکی
پاکستان سے ٹیسٹ سیریز ہارنے والی انگلش ٹیم کے کپتان مائیکل وان نے کہا ہے کہ لاہور میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں شعیب اختر دونوں ٹیموں میں واضح فرق ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی پوری ٹیم ہم سے بہتر کھیلی مگر شعیب نے لاہور ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی فتح میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی سیدھی وکٹ پر ایک فاسٹ بالر کا اتنی زبردست بالنگ کرنا ایک حیران کن بات ہے اور اس میچ میں شعیب نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا۔

مائيکل وان نے تسلیم کیا کہ ’جب بھی شعیب اختر بالنگ کروانے کے لیے بال ہاتھ میں لیتے تو ہمارے کھلاڑی اسے ایک خطرہ سمجھنے لگتے‘۔ مائیکل وان نے کہا کہ نہ صرف شعیب اختر نے بلکہ پاکستان کے تمام بالرز نے بہت زبردست اور منظم طریقے سے بالنگ کروائی۔

مائیکل وان خود بھی شعیب اختر کی گیند پر آوٹ ہوئے

مائیکل وان نے اپنی پریس کانفرنس میں پوچھے جانے والے متعدد سوالوں کے جواب میں شعیب کی بالنگ کا ذکر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر شعیب کی ان آہستہ پھینکی جانے والی گیندوں کا ذکر کیا جنہیں انگلینڈ کے بلے باز سمجھ ہی نہ سکے۔

خود مائیکل وان بھی میچ کے چوتھے دن شعیب کی اسی آہستہ گیند کا شکار ہو کر صرف تیرہ کے سکور پر پویلین واپس لوٹ گئے تھے۔

سیریز میں انگلینڈ ٹیم کی دو صفر سے شکست کی ایک اور اہم وجہ مائیکل وان کے نزدیک انضمام کی زبردست فارم تھی۔ انگلینڈ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ تمام سیریز میں انضمام نے مسلسل بہتر کارکردگی دکھائی اور اس نے بھی پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

مائیکل وان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستانی کھلاڑی انگلش کھلاڑیوں سے بہتر ہیں اور انہوں نے تمام سیریز میں ان سے بہتر کھیل پیش کیا۔

 جب بھی شعیب اختر بالنگ کروانے کے لیے بال ہاتھ میں لیتے تو ہمارے کھلاڑی اسے ایک خطرہ سمجھنے لگتے
مائیکل وان

پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے سلسلے میں وان کا کہنا تھا کہ ہم اس میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ ایک روزہ میچ ٹیسٹ کرکٹ سے مختلف ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’ اب ہماری کوشش ہوگی کہ ہم پانچ ایک روزہ میچوں کے لیے خود کو منظم کریں اور اپنی کمزوریوں پر کام کر کے ایک روزہ میچز میں اچھی کارکردگی دکھائیں اور پاکستان کی وکٹوں پر کھیل کر وہ سیکھیں جو ہمیں بھارت میں بھارت کے خلاف ہونے والی ہماری سیریز میں مدد دے کیونکہ بھارت میں وکٹیں بھی ایسی ہی ہوں گی‘۔

66میچ کا چوتھا دن
66صلیب کی جگہ سجدہ
سنچری بنانے پر یوسف کا گراونڈ میں سجدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد