بیل اور کالنگ وڈ انگلینڈ کی امید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستان کے 636 رن کے جواب میں چائے کے وقفے کے بعد انگلینڈ نے 2 وکٹ کے نقصان پر121 رن بنائے ہیں۔ انگلینڈ کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 227 رن کی ضرورت ہے اور اس کی8 وکٹیں باقی ہیں۔ اس وقت پال کالنگ وڈ اور این بیل کریز پر موجود ہیں۔ این بیل نے اپنی چھٹی نصف سنچری مکمل کی ہے اور وہ 60 رن پر کھیل رہے ہیں جبکہ کالنگ وڈ نے 37 رن بنائے ہیں۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی مائیکل وان تھے جو تیرہ کے انفرادی سکور پر شعیب کا شکار بنے۔ اس سے پہلےمارکس ٹریسکوتھک انگلینڈ کی دوسری اننگز کے پہلے اوور کی دوسری گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ انہیں بھی شعیب اختر نے آؤٹ کیا۔ پاکستان نے کھانے کے وقفے سے قبل آٹھ وکٹوں کے نقصان پر636 رن بنا کر اننگز ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس طرح اسےانگلینڈ پر 348 رن کی برتری حاصل ہوئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے رانا نوید الحسن 42 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستانی کپتان انضمام الحق نے97 رن کی اننگز کھیل اور وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں آٹھ ہزار رن بنانے والے پاکستان کے دوسرے کھلاڑی اور دنیا کے چودہویں بلے باز بن گئے۔ انضمام الحق نے سنہ 2005 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں ہزار رنز بھی مکمل کیے یہ اس سال ان کا آٹھواں ٹیسٹ میچ ہے۔ انضمام الحق اس سے قبل سنہ 2000میں بھی ٹیسٹ میچوں میں ایک ہزار رنز مکمل کرچکے ہیں۔ پاکستان کی جانب سےمحمد یوسف نے اپنی ڈبل سنچری مکمل کی۔ وہ 223 کے انفرادی سکور پر شان یوڈل کی گیند پر کیچ ہوئے جبکہ کامران اکمل نے 154 رن بنائے انہیں ہارمیسن کی گیند پر مائیکل وان نے کیچ کیا۔ محمد یوسف اور کامران اکمل نے چھٹی وکٹ کے لیے مجموعی سکور میں269 رنز کا اضافہ کیا جو ٹیسٹ کرکٹ میں چھٹی وکٹ کے لیے پاکستان کی کسی بھی ملک کے خلاف سب سے بڑی شراکت ہے۔ اس سے قبل65-1964ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں حنیف محمد اور ماجد خان نے217 رنز بنائے تھے۔ گزشتہ روز کے کھیل میں پاکستان کے صرف ایک کھلاڑی شعیب اختر آؤٹ ہوئے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد پاکستانی بلے بازوں نے تمام دن عمدہ کھیل پیش کیا اور محمد یوسف اور کامران اکمل کی شاندار سنچریوں کی بدولت پاکستان کو انگلینڈ پر158 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی تھی۔ پاکستان نے تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر پانچ وکٹوں کے نقصان پر446 رنز بنائے تھے اور محمد یوسف183 اور کامران اکمل115 رنز پرناٹ آؤٹ تھے۔ پاکستان کی ٹیم: انضمام الحق( کپتان)، شعیب ملک۔ سلمان بٹ۔ عاصم کمال۔محمد یوسف۔ حسن رضا۔ کامران اکمل۔شعیب اختر۔ محمد سمیع۔ رانا نویدالحسن اور دانش کنیریا۔ انگلینڈ کی ٹیم: مائیکل وان ( کپتان)، مارکس ٹریسکوتھک۔ ای این بیل۔ کیون پیٹرسن۔ پال کالنگ ووڈ۔ اینڈریوفلنٹوف۔ گیرائنٹ جونز۔ سٹیو ہارمیسن۔ میتھیو ہوگرڈ ۔ شان یوڈل اور لیئم پلنکٹ۔ | اسی بارے میں لاہور: یوسف، اکمل کی سینچریاں01 December, 2005 | کھیل محمد یوسف کا گراونڈ میں سجدہ01 December, 2005 | کھیل رنز نہ ہونے پر پریشان تھا: کامران01 December, 2005 | کھیل پاکستانی بالروں کی عمدہ کارکردگی29 November, 2005 | کھیل محمد یوسف: اپنی طرز کے واحد کھلاڑی01 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||