محمد یوسف: اپنی طرز کے واحد کھلاڑی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ٹیسٹ کے پہلے روز شعیب ملک کے ہاتھوں معجزے کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ وہ ٹیسٹ کے پہلے روز اپنی تمام تر لاقانونیت کے باوجود تین وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ کھیل کے دوسرے روز ایک اور معجزہ وقوع پزیر ہونے والا تھا۔ بس چار رنز کے فرق سے پال کالنگ وڈ ایک کرامت دکھانے سے رہ گئے۔ وہ 96 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی نصف سنچری بنانے کے بعد شعیب اختر کی ایک گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں صاف آؤٹ تھے مگر امپائر ڈیربئیر کو وہ سنِک دکھائی نہیں دی۔ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ امپائروں پر آج کل کافی بھاری وقت ہے۔ پاکستان کے علیم ڈار بھی دو روز پہلے ہی تین انتہائی برے فیصلے کر کے آسٹریلیا کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی کو آسان کر چکے ہیں۔ ان کے ساتھ بلی باؤڈن بھی مذاق مذاق میں رام نریش کو غلط ایل بی ڈبلیو قرار دے چکے ہیں۔ پھر پاکستان میں بھی فیصل آباد ٹیسٹ کے دوران امپائرنگ انتہائی خراب رہی۔ ان تمام فیصلوں سے لگتا ہے کہ امپائرنگ کا معیار جو بہتر ہو رہا تھا، اچانک نیچے چلا گیا ہے۔ رہی بات کھلاڑیوں کے سپورٹس مین سپرٹ کی جو گزرے وقتوں میں ان کو کریز رضا کارانہ طور پر چھوڑنے پر اکساتی تھی، تو بھائی اس سوال میں ہی آج کا جواب چھپا ہے، یعنی یہ گزرے وقتوں کی بات ہے۔ پال کالنگ وڈ نے بی بی سی کے لیے تحریر شدہ ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ وہ لاہور ٹیسٹ کھیلنے اور اس میں سنچری سکور کرنے کے لیے انتہائی بے تاب ہیں۔ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں۔ امپائر کے ایک غلط فیصلے کا قصور وار انہیں ٹھہرانا زیادتی ہو گی۔ مگر انگریز مبصرین کی طرف سے بار بار پاکستانی کھلاڑیوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنانا کہ وہ اپیلیں بہت کرتے ہیں یہ بھی زیادتی ہے۔ ہمارے آج کے کھلاڑی محمد یوسف بہر حال خوش قسمت رہے، امپائروں کی بدولت نہیں بلکہ اینڈریو فلنٹوف کی وجہ سے جنہوں نے 16 کے سکور پر ان کا کیچ گرا دیا۔ یوسف اس کے بعد اور زیادہ اچھا اور تیز کھیلے، مگر دن کے اختتام سے پہلے وہ محتاط ہو گئے۔ وہ منجھے ہوئے بلے باز ہیں اور انضمام سے اپنے اچھے کھلاڑی ہونے کی سند حاصل کرچکے ہیں۔ نجانے کیوں انہیں سیدھی وکٹوں کا کھلاڑی کہا جاتا ہے جبکہ یوسف تیز وکٹوں پر بھی بڑا سکور کر چکے ہیں۔ وہ بلے بازوں کی ایک تیزی سے نایاب ہوتی ہوئی قسم کی نمائندگی کرتے ہیں۔
وہ سائڈ آن کھیلتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابھی تک اپنے اندر موجود ٹیلنٹ سے انصاف کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مگر ان کے پاس ابھی دو چار برس ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ یوسف زیادہ دب کر کھیلنے سے پرہیز کریں گے۔ انضمام الحق ہوں یا محمد یوسف انکے کھیل کا دارومدار ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ہے۔ یہ بات صاف ہے کہ پاکستان کو نئے قابل اعتماد بلے بازوں کی تلاش میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ حسن رضا نے ایک بار پھر مایوس کیا۔ شعیب ملک باوجود اس تمام تعریف کے جو ہم ان پر برساتے رہے ہیں پھر ناکام رہے۔ عاصم کمال بھی نہ چل سکے اور پویلین کی طرف جاتے جاتے یہ عندیہ دے گئے کہ یونس خان اتنا وقت گزارنے کے بعد اب ٹیم کی اہم ضرورت بن گئے ہیں۔ مگر اس سے بڑا عندیہ حسن رضا کی وکٹ سے آیا۔ پاکستان کے سلیکٹروں کو بلے بازوں کی تلاش کا دائرہ وسیع کرنا ہو گا۔ اب حسن رضا سے آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں آج کا کھلاڑی، شعیب ملک29 November, 2005 | کھیل چھ دن کے ٹیسٹ میچ کی تجویز30 November, 2005 | کھیل لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی واپسی30 November, 2005 | کھیل ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی30 November, 2005 | کھیل تیسرا ٹیسٹ، غیرمعمولی اہمیت28 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||